مسافر جمعہ کی امامت کر سکتا ہے؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ برکاتہ حضرت مفتی صاحب ایک سوال ہے کہ ہمارے کچھ علاقے میں جمعہ کے دن باہر سے مولانا بلاتے ہیں تقریباً 💯 کیلومیٹر یا ڈیر سو کیلومیٹر سے آتے ہیں تو کیا وہ مسافر نہیں ہوتے تو کیا انکے پیچھے نماز ہوجاتی ہے یا نہیں اسکا مدلل جواب عنایت فرمائے سائل محمد جہانگیر دامنگر گجرات
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق ۔مسافر جمعہ کی نماز کا امام ہو سکتا ہے فقیہ ملت مفتی جلال الدین امجدی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں مسافر نماز فجر مغرب، جمعہ بلکہ ہر نماز میں مقیم کی امامت کر سکتا ( فتاوی فقیہ ملت جلد اول صفحہ 225 ) مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں جمعہ کی امامت ہر مرد کر سکتا ہے جو اور نمازوں میں امام ہو سکتا ہو اگرچہ اس پر جمعہ فرض نہ ہو جیسے کہ مریض، مسافر، (بہارشریعت حصہ چارہم صفحہ 772 ) جس پر کسی عذر کے سبب جمعہ فرض نہ ہو اور وہ اگر ظہر پڑھ کر جمعہ کے لیے نکلا تو اس کی نماز بھی جاتی رہی (بہارشریعت ) یعنی جس پر جمعہ فرض نہ ہو اور وہ ظہر پڑھ کر جمعہ کی نماز پڑھ لے تو ظہر جاتی رہی یعنی وہ نفل ہو گئے اور جمعہ ہو گیا اس سے معلوم ہوا کہ جمعہ کی امامت مسافر بھی کر سکتا ہے واللہ اعلم و رسولہ
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
ویبسائٹ دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں