انسان کے مرنے کے بعد اعمال لکھنے والے فرشتے کہا رہتے ہیں

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ انسان کے وہ فرشتے جو اعمال لکھنے پر مقرر ہے وہ انسان کے مرنے کے بعد کہا جاتے ہیں اور کیا کرتے ہیں اور جو ہر انسان کے ساتھ ایک ہمزاد پیدا ہوتا ہے وہ انسان کے مرنے کے بعد کہا جاتا ہے جواب عنایت فرمائیں سائل حکیم خان 
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں امام جلال الدین سیوطی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں ابو نعیم نے ابو سعید سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا،  آپ فرماتے تھے جب اللہ تعالٰی مومن کی روح قبض فرما لیتا ہے تو اس کے فرشتے  (اعمال لکھنے والے ) آسمان پر چھڑ جاتے ہیں اور عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب تونے ہم کو اپنے مومن بندے کے اعمال لکھنے پر مقرر فرمایا تھا اب تونے اس کی روح قبض کر لیا ہے تو اب ہمیں  اجازت دے کہ ہم آسمان پر اقامت کریں تو اللہ تعالٰی فرمائے گا ہر آسمان میری تسبیح و تقدس کرنے والے فرشتوں سے پر ہے تو وہ عرض کریں گے پھر زمین پر رہنے کی اجازت ہو اللہ تَعَالٰی فرمائے گا میری زمیں پر  تسبیح کرنے والی مخلوق کے ساتھ وہاں اسی بندے کی قبر پر جاکر کھڑے ہو جاؤ اور وہاں میری تسبیح تہلیل اور بڑائی بیان کرو اور قیامت تک ایسا ہی کرتے رہو اور یہ سب میرے بندے کے نامہ اعمال میں لکھو بعض روایات میں ہے کہ کافر کے فرشتوں سے کہا جاتا ہے کہ اس کی قبر  (مرگٹ ) پر واپس جاؤ اور اس پر لعنت کرو  (شرح الصدور صفحہ 280 ) اور ہمزاد کے متعلق اعلی حضرت قدس سرہ فرماتے ہیں کہ مسلمان کا ہمزاد مقید کر لیا جاتا ہے اور کافر کا بھوت ہو جاتا ہے  (یعنی وہ آزاد رہتا ہے ) (فتاوی شارح بخاری جلد اول صفحہ 669 بحوالہ الملفوظ )
واللہ اعلم و رسولہ 
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری 
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598