نابالغ بچہ کی اذان
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام نابالغ بچہ کی اذان کا حکم کیا ہے جبکہ بچہ اذان دینا جانتا ہوں کچھ حضرات بچوں کو اذان نہیں دینے دیتے ہیں کہ تمہاری اذان نہیں ہوتی جواب عنایت فرمائیں حوالے کے ساتھ ساںٔل محمد علی سانواں
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
حدیث میں ہے تم میں سے جو زیادہ بہتر ہو وہی اذان کہیں (آبی داؤد )
لڑکا اگر سمجھدار صاحب عقل و تمیز ہے جس کی آواز پر لوگوں کو اعتماد ہو تو وہ اذان کہہ سکتا (فتاوی ادارہ شرعیہ جلد اول ) نابالغ اگر عاقل ہے اور اس کی اذان! اذان سمجھی جائے تو جائز ہے (فتاوی رضویہ جلد پنجم ) (درمختار ردالمتار جلد دوم صفحہ 99 ) میں ہے قریب البلوغ بچے کی اذان بلا کراہت جائز ہے ) تنویر الابصار کتاب اذان میں ہے اس سے مراد عاقل بچہ ہے اگرچہ قریب البلوغ نہ بھی ہو بعض نے کہا کہ بچے کی اذان مکروہ ہے لیکن یہ ظاہر الروایہ کے خلاف ہے
خلاصہ یعنی لڑکا سمجھدار ہو اور اذان و نماز کے وقت کی پہچان رکھتا ہو اور الفاظ بھی درست ہو ایسے لڑکے کے اذان دینے میں کوئی حَرَج نہیں اور اقامت بھی کہیں تو بھی مگر اقامت کسی بالغ کو دینا بہتر ہے
تنبیہ آج کل اکثر لوگوں کی اذان صحیح نہیں ہوتی ہے یہ ہمارا تجربہ ہے مگر یہ لوگ پھر بھی اذان دیتے ہیں اور بچوں کو اذان نہیں دینے دیتے یہ غلط ہے بچوں کو آگے بڑھائے تاکہ ان کا حوصلہ بلند ہو اور جوان ہوتے ہوتے اذان دینے میں انھیں جھجک نہ ہو اگر بچوں کو آگے نہیں بڑھایا تو آنے والے وقت میں یہ بچے پھر کچھ نہیں کر سکتے واللہ اعلم و رسولہ
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تاریخ 6 فروری 2023
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں