اشاعتیں

فروری, 2023 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

عقیقہ میں سر منڈنا

سوال کیا عقیقہ کرنے کے بعد بچے کے سر کے بال کاٹنا ضروری ہے  الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق  جس طرح عقیقہ کرنا سنت ہے اسی طرح جانور ذبح کرنے کے بعد بچے کا سر مونڈنا سنت مستحب ہے جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن کی طرف سے ایک بکری عقیقہ کیا اور فرمایا!  فاطمہ!  اس کا سر مونڈ دو اور اس کے بال کے برابر چاندی صدقہ کرو الخ  (جامع الترمذی رقم الحدیث 1519 ) اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ بچے کا سر منڈنا قولی سنت ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ بچے کے عقیقہ میں اگر ایک ہی بکری ذبح کرے تو جائز ہے  ہمارے یہاں گجرات میں اکثر عقیقہ بچے کے پیدائش پر نہیں کرتے ہیں بلکہ جوان ہونے کے بعد کرتے ہیں یہ صرف مستحب ہے لہٰذا اگر جوان ہونے کے بعد کرتے ہیں تو سر منڈانا ضروری نہیں مباح ہے  واللہ اعلم و رسولہ  کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی  دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن  تاریخ 13 فروری 2023  دھن باد گجرات

نابالغ بچہ کی اذان

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام نابالغ بچہ کی اذان کا حکم کیا ہے جبکہ بچہ اذان دینا جانتا ہوں کچھ حضرات بچوں کو اذان نہیں دینے دیتے ہیں کہ تمہاری اذان نہیں ہوتی جواب عنایت فرمائیں حوالے کے ساتھ ساںٔل محمد علی سانواں  الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق  حدیث میں ہے تم میں سے جو زیادہ بہتر ہو وہی اذان کہیں  (آبی داؤد )  لڑکا اگر سمجھدار صاحب عقل و تمیز ہے جس کی آواز پر لوگوں کو اعتماد ہو تو وہ اذان کہہ سکتا  (فتاوی ادارہ شرعیہ جلد اول ) نابالغ اگر عاقل ہے اور اس کی اذان!  اذان سمجھی جائے تو جائز ہے  (فتاوی رضویہ جلد پنجم ) (درمختار ردالمتار جلد دوم صفحہ 99 ) میں ہے قریب البلوغ بچے کی اذان بلا کراہت جائز ہے ) تنویر الابصار کتاب اذان میں ہے اس سے مراد عاقل بچہ ہے اگرچہ قریب البلوغ نہ بھی ہو بعض نے کہا کہ بچے کی اذان مکروہ ہے لیکن یہ ظاہر الروایہ کے خلاف ہے  خلاصہ یعنی لڑکا سمجھدار ہو اور اذان و نماز کے وقت کی پہچان رکھتا ہو اور الفاظ بھی درست ہو ایسے لڑکے کے اذان دینے میں کوئی حَرَج نہیں اور اقام...