خطبہ میں عصا پکڑنا تحقیق
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل میں کہ امام کا خطبہ جمعہ کے وقت ہاتھ میں عصا پکڑنا کیسا ہے زید کہتا ہے کہ سنت ہے اور بکر کہتا ہے کہ مکروہ ہے زید کی دلیل حدیث آبی داؤد ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ ایک عصا یا کمان پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوتے الخ (حدیث نمبر 1096 ) زید اور بکر میں سے کس کا قول صحیح ہے جواب عنایت فرمائیں سائل اسلم دین محمد وڑگاما ماتھک گجرات
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
صورت مسئولہ میں زید کی بیان کردہ حدیث صحیح ہے مگر اس حدیث سے عصا پکڑنا سنت ثابت نہیں ہوتا زمانہ نبوی میں جمعہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ منافق بھی پڑھتے تھے لہذا منافقین کو یاد دلانے کے لیے لاٹھی یا کمان یا تلوار پکڑتے تھے جیسا کہ درمختار ردالمتار جلد دوم باب جمعہ صفحہ 276 میں ہے امام کھڑا ہو جبکہ تلوار اس کے بائیں ہاتھ میں ہو جبکہ وہ اس پر ٹیک لگائے ہوئے ہو الخلصہ میں ہے کہ یہ مکروہ ہے کہ وہ تیر یا کمان یا عصا پر ٹیک لگائے! !! درمختار ردالمتار کی شرح تنویر الابصار جلد دوم کتاب الصلاۃ میں ہے کہ کہا گیا ہے کہ اگر تم اسلام سے پھرے تو تلوار مسلمانوں کے ہاتھ میں باقی ہے وہ تم سے جنگ کریں گے یہاں تک کہ تم اسلام کی طرف لوٹ آوگے! !! محقق جدید حضرت مفتی محمد نظام الدین رضوی فرماتے ہیں خطبہ نام ہے ذکر الٰہی کا جس میں ذکر رسول بھی شامل ہے اور ذکر زبان سے ہوتا ہے نہ کہ عصا سے مقصود ہوتا ہے ٹیک لگانا سہارا لینا جو خطیب کی راحت و آرام کا ذریعہ ہے اور ذکر و عبادت کے وقت اپنی راحت و آرام کا لحاظ مناسب نہیں پھر عصا ہاتھ میں لینا اور اس پر ٹیک لگانا ذکر و عبادت کے سوا ایک دوسرے کام میں شغل بھی ہے یہ ہی وجہ ہے کہ فقہاء حنفیہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عصا لے کر خطبہ دینے کو مکروہ لکھا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ تر بغیر عصا کے ہی خطبہ پڑھا ہے ایک حدیث حضرت حکم بن حزن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس میں عصا یا قوس پر ٹیک لگا کر خطبہ دینے کا ذکر ہے مگر یہ ایک بار کا واقعہ ہے جو مفید عموم نہیں اور ہو سکتا ہے کہ یہ عذر کی وجہ سے ہو یا بیان جواز کے لیے آپ نے ایسا کیا ہو! !! فتاوی رضویہ میں ہے کہ خطبے میں عصا ہاتھ میں لینا بعض علماء نے سنت لکھا اور بعض نے مکروہ اور ظاہر ہے کہ اگر سنت بھی ہو تو کوئی سنت موئکدہ نہیں تو بنظر اختلاف اس سے بچنا ہی بہتر ہے مگر جب کوئی عذر ہو (فتاوٰی رضویہ جلد 8 کتاب الصلوۃ )
خلاصہ کلام یہ ہے کہ بغیر عذر کے عصا لینا مکروہ ہے اور پھر دیہات میں گرمی کے موسم میں اکثر بجلی نہ ہونے پر خطیب کے ہاتھوں میں پسینہ آتا ہے اس کی وجہ سے عصا ہاتھ میں سے فصل سکتا جس سے کسی کو چوٹ لگ سکتی ہے اور ایسا ہوا بھی ہے ایک بار مولانا محمد علی صاحب نے مجھے بتیا کہ آج بجلی نہیں تھی اور خطبہ کے دوران عصا ہاتھ سے گر گیا ایک مقتدی کے سر پر لگا لہٰذا عصا نہ لے اور عصا لینا سنت موئکدہ نہیں ہے کہ اگر سنت ہوتا تو اور بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کا خطبہ دیا ہے مگر عصا پکڑنا کہی ثابت نہیں صرف ایک بار کا واقعہ ثابت ہے اور اس کی وجہ ہم تنویر الابصار کے حوالے سے بیان کر چکے ہیں اور محقق جدید مفتی محمد نظام الدین صاحب کا فتوی بھی ہم نے نقل کیا ہے! مگر جہاں فتنہ کا اندیشہ ہو تو عصا لینے میں حرج نہیں کہ بعض جاہل لوگ عصا کو صرف سنت ہی نہیں بلکہ واجب سمجھتے ہیں اور سمجھانے سے سمجھتے بھی نہیں ہے لہٰذا ائمہ کرام ایسے حالات میں جاہلوں سے منہ نہ لگے واللہ اعلم و رسولہ
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تاریخ 30 جنوری 2023 بروز پیر
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں