حربی سے نفع حاصل کرنا جائز ہے

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسٔلہ کے بارے میں کہ زید نے پانچ لاکھ روپے (500000) کسی غیر مسلم کو دےء اور اس کا کھیت گروی پے رکھا اب غیر مسلم جب تک پیسے واپس نہیں لوٹاتا  تب تک زید اس کے کھیت میں فصل وغیرہ بو کر اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے یا نہیں اور اس فصل سے  زید اس غیر مسلم کو جس کا کھیت ہے اس کو کچھ بھی رقم وغیرہ نہیں دیگا
ساءیل محمد صدام حسین قادری باڑمیر راجستھان
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 
صورت مسئولہ میں یہ زمین غیر مسلم کی ہے اور ہندوستان کے کافر حربی ہے اور حربی و مسلمان کے درمیان سود نہیں جیسا مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں 
اور ان کے اموال عقود فاسدہ کے ذریعہ حاصل کرنا جائز ہے جیسا کہ صدر الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: عقد فاسدہ کے ذریعہ کافر حربی کا مال حاصل کرنا ممنوع نہیں۔ یعنی جو عقد مابین دو مسلمانوں کے ممنوع ہے اگر کافر حربی کے ساتھ کیا جائے تو منع نہیں مگر شرط یہ ہے کہ وہ عقد مسلم کے لئے مفید ہو۔ مثلاً ایک روپیہ کے بدلے دو روپیہ خریدے یا اس کے ہاتھ مردار کو بیچ ڈالا کہ اس طریقہ پر مسلمان سے روپیہ حاصل کرنا شرع کے خلاف اور حرام ہے اور کافر سے حاصل کرنا جائز ہے (بہار شریعت جلد یازدہم ص ۵۳) اس عبارت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ روپیہ دے کر کافر حربی سے نفع حاصل کرنا جائز ہے مگر اسے سود کی نیت سے نہ لے کہ سودمطلقاً حرام ہے۔
فتاوی فیض الرسول  جلد دوم صفحہ 367
واللہ اعلم و رسولہ 
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی 
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 
تاریخ 13 دسمبر 2022

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598