حلالہ میں جماع ضروری
السلامُ علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں زید نے ہندہ کو تین طلاق دے دی۔ اب زید ہندہ سے دوبارہ نکاح کرنا چاہتا ہے تو ہندہ نے حلاله کے لیے بکر سے نکاح کیا لیکن صُحبت کیے بغیر بکر کا انتقال ہوگیا تو کیا ہندہ اب زید سے نکاح کر سکتی ہے ؟جب کے بکر اور ہندہ کے درمیان خلوت صحیحہ اور صُحبت نہیں ہوئی۔ السائل: مولانا نظام الدّین اکبری۔ راجستھا
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
صورت مسئولہ زید ہندہ سے نکاح نہیں کر سکتا کہ ہندہ سے بکر نے دخول نہیں کیا قرآن مجید میں ہے
فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنۡۢ بَعۡدُ حَتّٰی تَنۡکِحَ زَوۡجًا غَیۡرَہٗ ؕ فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِمَاۤ اَنۡ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنۡ ظَنَّاۤ اَنۡ یُّقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللّٰہِ ؕ وَ تِلۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۳۰﴾
پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے، (ف٤۵۳) پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں (ف٤۵٤) اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نباہیں گے، اور یہ اللہ کی حدیں ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کے لئے،
مفتی احمد یار خان رحمتہ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہے
اس سے معلوم ہوا کہ حلالہ میں صرف دوسرا نکاح کافی نہیں، بلکہ دوسرے خاوند کی صحبت ضروری ہے، کیونکہ تنکح کے معنی ہیں صحبت اور لفظ زوجا سے نکاح ثابت ہوا۔(نور العرفان)
خزائن العرفان میں ہے
(ف453)
مسئلہ:تین طلاقوں کے بعد عورت شوہر پر بحرمت مغلظہ حرام ہوجاتی ہے اب نہ اس سے رجوع ہوسکتا ہے نہ دوبارہ نکاح جب تک کہ حلالہ ہو یعنی بعد عدت دوسرے سے نکاح کرے اور وہ بعد صحبت طلاق دے پھر عدت گزرے۔
(ف454)
دوبارہ نکاح کرلیں۔
حضور مفتئ اعظم ہند تحریر فرماتے ہیں ، کہ حلالہ محض نکاح کانام نہیں، حلالہ اس وقت تک نہ ہوگا جب تک دوسرا شوہر اس سے وطی نہ کرے””
(فتاویٰ مصطفویہ صفحہ 364 )
:مشکوة حدیث نمبر 3303
میں ہے
حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ ایک دن رفاعہ قرظی کی عورت رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میں رفاعہ کے نکاح میں تھی مگر انہوں نے مجھے طلاق دیدی اور طلاقیں بھی تین دیں چناچہ میں نے رفاعہ کے بعد عبدالرحمن ابن زبیر سے نکاح کرلیا لیکن عبدالرحمن کپڑے کے پھند کی مانند رکھتے ہیں ( یعنی اس عورت نے ازراہ شرم وحیا عبدالرحمن کی نامردی کو کنایۃ ان الفاظ کے ذریعہ بیان کیا کہ وہ عورت کے قابل نہیں ہیں) آنحضرت ﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ کیا تم پھر رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو اس نے عرض کیا کہ ہاں آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اس وقت تک رفاعہ سے دوبارہ نکاح نہیں کرسکتیں جب تک کہ عبدالرحمن تمہارا مزہ نہ چکھ لے اور تم اس کا مزہ نہ چکھ لو (بخاری ومسلم)
تشریح
حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ جب تک تمہارا دوسرا شوہر تمہارے سات جماع نہ کرے اور پھر اس کی طلاق کے بعد تم عدت کے دن پورے نہ کرلو تم اپنے سابق خاوند یعنی رفاعہ سے نکاح نہیں کرسکتیں چناچہ یہ حدیث مشہور اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حلالہ یعنی سابق خاوند کے واسطے حلال ہونے کے لئے کسی دوسرے مرد سے محض نکاح کرنا ہی کافی نہیں ہے بلکہ مجامعت بھی ضروری ہے
واللہ اعلم و رسولہ
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تاریخ 13 دسمبر 2022
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں