نماز میں خلاف ترتیب قرآن پڑھنا
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ نماز میں الٹا قرآن پڑھنے سے کیا نماز واجب الاعادہ ہوتی ہے ؟
ہمارے یہاں امام سے ایسا ہوا تو ایک مقتدی نے کہا کہ نماز نہیں ہوئی اور امام نے دوبارہ نماز پڑھائی بحوالہ جواب عنایت فرمائیں سائل عبداللہ حیدر گجرات
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
نماز میں قصداالٹا قرآن پڑھنا یعنی جو سورت یا آیت بعد میں ہے اسے پہلی رکعت میں پڑھنا اور جو پہلے ہے اسے بعد والی رکعت میں پڑھنا مکروہ تحریمی ہے۔ اور اگر قصدا نہ ہو بلکہ بھول سے ہو تو گناہ نہیں ، دونوں صورتوں میں نماز واجب الاعادہ نہیں ہے ، نماز ادا ہوگئی ، قرآن ترتیب کے ساتھ پڑھنا تلاوت کے واجبات میں سے ہے ، نماز کے واجبات میں سے نہیں ،اسی لیے خارج نماز بھی قصدا الٹا قرآن پڑھنا گناہ ہے ۔ (فتاوٰی اہلسنت ) فتاوی فقیہ ملت جلد اول صفحہ 165 ) میں ہے نماز ہوگئی البتہ اس نے بے ترتیبی سے سہوا پڑھا تو کچھ حرج نہیں اور قصداً پڑھا گنہگار ہوا الخ! !!
خلاصہ کلام بے ترتیب قرآن پڑھنا مکروہ تحریمی ہے یعنی یہاں مکروہ تحریمی کا مطلب گناہ ہے مگر اس سے نماز فاسد نہیں ہوگی مقتدی نے غلط مسئلہ بیان کیا ہے حدیث میں ہے جو بغیر علم کے فتوی (مسئلہ ) دے اس پر زمین و آسمان کے فرشتوں کی لعنت ہے (فتاوٰی رضویہ جلد 23 صفحہ 716 ) لہٰذا مقتدی توبہ کرے کہ آئندہ غلط مسئلہ بیان نہیں کرے گا اور پھر امام کا مقتدی کی بات پر اعتماد کر کے نماز واپس دورانا یہ بھی غلط ہے امام کو کم سے کم نماز کے ضروری مسائل سے واقف ہونا ضروری ہے لہٰذا امام نے بغیر حکم شرع نماز کو پھر سے پڑھایا جو کہ فرض کی تکرار ہوئی جو جائز نہیں لہٰذا امام بھی توبہ کرے اور آئندہ نماز کے ضروری مسائل یاد کرے واللہ اعلم و رسولہ
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں