یہ منت شرعی نہیں

السلام علیکم و رحمۃ الله وبرکاتہ                                        بسم الله الرحمن الرحیم         علماء کرام سے  موئدبانہ گزارش ہےکہ اس  مسئلہ میں رہنمائی فرمائیں٠ زید نے یہ منت مانی کہ میرا فُلاں کام ماہِ ربیع الثانی سے پہلےہو جائے تو میں  ختمِ غوثیہ شریف کی محفل مع  عزیزواقاریب کے کھانے کا اھتمام کروں گا٠ مطلوبہ کام بروقت ہوگیا ٠ اور گیارویں شریف کا مہینہ چل رہا ہے  مگر صاحب منت کی مجبوری یہ ہے کہ  تیس  ربیع الثانی تک مذکورہ منت پوری کرنے میں کچھ مشکلات درپیش ہیں٠(یعنی زید کے عزیز واقارب کوئی مجبوری کی بِنا پر  تیس ربیع الثانی تک دعوت قبول  نہیں کرتے) ایسے میں زید کے لیے کیا حکم ہے   مذکورہ منت ماہِ ربیع الثانی میں ہی پوری کرے  یا بعد میں کسی بھی مہینے میں اپنی مذکورہ منت پوری کرسکتا ہے؟ یا پھر آئیندہ ماہ ربیع الثانی کا انتظار کرے؟  مسئلہ نمبر (2) مزکورہ منت شرعی ہوئی کہ نہیں؟    سائل  نظام الدین اکبری ٠ رادھن پور گجرات
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 
صورت مسئولہ میں منت کو پورا کرنا چاہے اگرچہ یہ منت شرعی نہیں ہے لیکن اس کا پورا کرنا بہتر ہے اللہ تعالٰی فرماتا ہے 
يُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ يَخَافُوْنَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِيْرًا)۷(  { (6)

نیک لوگ وہ ہیں  جو اپنی منّت پوری کرتے ہیں  اور اوس دن سے ڈرتے ہیں  جس کی  برائی پھیلی ہوئی ہے۔(قرآن)
ابو داود و دارمی جابربن عبداللہ  رضی اللہ  تعا لٰی      عنہما سے روایت کرتے ہیں  ، کہ ایک شخص نے فتح مکہ کے دن حضور اقدس صلی اللہ  تعالٰی   علیہ وسلم   کی  خدمت میں    حاضر ہو کر عرض کی ، یارسول اللہ !( صلی ا للہ  تعالٰی   علیہ وسلم) میں    نے منّت مانی تھی کہ اگر اللہ  تعا لٰی      آپ کے لیے مکہ فتح کرے گا تو میں    بیت المقدس میں    دورکعت نماز پڑھوں  گا۔ اُنھوں  نے ارشاد فرمایا: کہ ’’یہیں  پڑھ لو۔‘‘ دوبارہ پھر اوس نے وہی سوال کیا، فرمایا: کہ ’’یہیں  پڑھ لو۔‘‘ پھرسوال کا اعادہ کیا(3)، حضور( صلی اللہ  تعالٰی   علیہ وسلم) نے جواب دیا: ’’اب تم جو چاہو کرو 
اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ منت آپ کسی بھی وقت پوری کر سکتے ہیں اور اگر پوری نہیں بھی کرے تو بھی گنہگار نہیں ہوگا کہ یہ منت عرفی ہے مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں بزرگ کے مزار پر چادر چھڑانے کی یا گیارویں کی نیاز دلانے یا غوث اعظم رضی اللہ عنہ کا توثہ کرنے کی منت مانی تو یہ شرعی منت نہیں ہے مگر یہ کام منع نہیں ہیں کرے تو اچھا ہے  (بہار شریعت حصہ نہم صفحہ 320 )
خلاصہ کلام یہ منت آپ کسی بھی وقت کر سکتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں ہے واللہ اعلم و رسولہ 
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی 
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 
تاریخ 23 نومبر 2022

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598