اشاعتیں

نومبر, 2022 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

بیوا کی عدت

السلام علیکم کیا فرماتے علماے کرام اس مسئلہ میں اگر کسی عورت کا شوہر انتقال ہوجاے تو عدت چار مہنے دس دن ہے مگر اسکے باجود لوگ ایک مہینہ دس دن عدت پوری کروالتے ہیں یہ غلط ہے اگر کوئ جان بوجھ کے غلطی کرے اس پر کیا حکم ہے قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرماے از قلم میر محمد اکبری مقام پوسٹ چھاجالا تحصیل بھینمال ضلع جالور راجستھان وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ  الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں بیوا عورت کی عدت چار ماہ دس دن ہے قال اللہ تعالٰی  وَالَّذِيۡنَ يُتَوَفَّوۡنَ مِنۡكُمۡ وَيَذَرُوۡنَ اَزۡوَاجًا يَّتَرَبَّصۡنَ بِاَنۡفُسِهِنَّ اَرۡبَعَةَ اَشۡهُرٍ وَّعَشۡرًا ‌‌ۚ فَاِذَا بَلَغۡنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيۡمَا فَعَلۡنَ فِىۡٓ اَنۡفُسِهِنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ (سورتہ البقرة 234 )  ترجمہ: اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں تو عورتیں چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں۔ اور جب (یہ) عدت پوری کرچکیں اور اپنے حق میں پسندیدہ کام (یعنی نکاح) ک...

بیوا کی عدت

السلام علیکم کیا فرماتے علماے کرام اس مسئلہ میں اگر کسی عورت کا شوہر انتقال ہوجاے تو عدت چار مہنے دس دن ہے مگر اسکے باجود لوگ ایک مہینہ دس دن عدت پوری کروالتے ہیں یہ غلط ہے اگر کوئ جان بوجھ کے غلطی کرے اس پر کیا حکم ہے قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرماے از قلم میر محمد اکبری مقام پوسٹ چھاجالا تحصیل بھینمال ضلع جالور راجستھان وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ  الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں بیوا عورت کی عدت چار ماہ دس دن ہے قال اللہ تعالٰی  وَالَّذِيۡنَ يُتَوَفَّوۡنَ مِنۡكُمۡ وَيَذَرُوۡنَ اَزۡوَاجًا يَّتَرَبَّصۡنَ بِاَنۡفُسِهِنَّ اَرۡبَعَةَ اَشۡهُرٍ وَّعَشۡرًا ‌‌ۚ فَاِذَا بَلَغۡنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيۡمَا فَعَلۡنَ فِىۡٓ اَنۡفُسِهِنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ (سورتہ البقرة 234 )  ترجمہ: اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں تو عورتیں چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں۔ اور جب (یہ) عدت پوری کرچکیں اور اپنے حق میں پسندیدہ کام (یعنی نکاح) ک...

چلہ پر جلسہ کرنا؟

السلام علیکم کیا فرماتے ہیں علماے کرام اس مسئلہ میں ایک گاؤں ایک درخت ہے اسکے نیجے ایک چلّہ بناہوا ہے اور اسکی کوئ حقیت نہی اسی جگہ پر لوگ فاتحہ نیاز کرتے ہیں اور ناریل پھوڑتے ہیں اور وہاں پے ہر سال جلسہ بھی ہوتا ہے اور اچھے خاصے علماء بھہی آتے ہیں بیان کرتے ہیں اور چلے اصلی حقیقت کیا ہے اور یہ سب ہورہا کیا صحیح قرآن حدیث کی روشنی جواب عنایت فرماے از قلم میر محمد اکبری مقام پوسٹ چھاجالا تحصیل بھینمال ضلع جالور راجستھان وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ  الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق  چلہ اس کو کہتے ہیں جہاں کسی بزرگ نے عبادت کی ہو وہاں برکت کی نیت سے عبادت کرنی چاہئے نہ کہ وہاں میلہ لگایا جائے اور جہاں اصل چلہ نہیں اور وہاں فاتحہ خوانی کرنا اور جلسہ کرنا ناجائز ہے  اور اس جگہ علماء کا جانا اور خطاب کرنا ناجائز و گناہ ہے مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی منیب الرحمن صاحب فرماتے ہیں لوگ زیارت و فاتحہ کے لیے بھی آتے رہیے اور وہ اس حقیقت سے آشنا تھے اور وہ خاموش رہے ان کی ذمہ داری تھی کہ لوگوں کو حقائق سے آگاہ کرتے اور لوگوں کو ...

یہ منت شرعی نہیں

السلام علیکم و رحمۃ الله وبرکاتہ                                        بسم الله الرحمن الرحیم         علماء کرام سے  موئدبانہ گزارش ہےکہ اس  مسئلہ میں رہنمائی فرمائیں٠ زید نے یہ منت مانی کہ میرا فُلاں کام ماہِ ربیع الثانی سے پہلےہو جائے تو میں  ختمِ غوثیہ شریف کی محفل مع  عزیزواقاریب کے کھانے کا اھتمام کروں گا٠ مطلوبہ کام بروقت ہوگیا ٠ اور گیارویں شریف کا مہینہ چل رہا ہے  مگر صاحب منت کی مجبوری یہ ہے کہ  تیس  ربیع الثانی تک مذکورہ منت پوری کرنے میں کچھ مشکلات درپیش ہیں٠(یعنی زید کے عزیز واقارب کوئی مجبوری کی بِنا پر  تیس ربیع الثانی تک دعوت قبول  نہیں کرتے) ایسے میں زید کے لیے کیا حکم ہے   مذکورہ منت ماہِ ربیع الثانی میں ہی پوری کرے  یا بعد میں کسی بھی مہینے میں اپنی مذکورہ منت پوری کرسکتا ہے؟ یا پھر آئیندہ ماہ ربیع الثانی کا انتظار کرے؟  مسئلہ نمبر (2) مزکورہ منت شرعی ہوئی کہ نہیں؟    سائ...

چندہ کی رقم بچ جائے تو؟

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسٔلہ کے بارے میں کہ (عید میلاد النبی) صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر ہمنے چندہ جمع کیا تھا جس سے پروگرام کیا اس میں سے کچھ پیسے بچے ہوئے ہیں ہمارے محلے میں ایک مسجد ہے جس میں آمدنی بلکل نہیں ہے میلاد کے بچے ہوئے پیسے پگار میں ملاکر مسجد کے امام کو دے سکتے ہیں یا نہیں  * ساءیل محمد صدام حسین قادری بامنور راجستھان وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ  الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق  صورت مسئولہ میں یہ رویہ آپ امام کی تنخواہ میں نہیں دے سکتے بلکہ اس رقم کا حکم یہ ہے کہ چندہ دینے والوں کو واپس لوٹائے   جیسا امام احمد رضا خان بریلوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں چندہ کا جو روپیہ کام ختم ہو کر بچے لازم ہے چندہ دینے والوں کو حصہ رسید واپس دیا جائے یا وہ جس کام کے لیے اب اجازت دیں اس میں صرف ہو (بغیر ) ان کی اجازت کے صرف کرنا حرام ہے ہاں جب ان کا پتہ نہ چلے تو اب (حکم ) ہے کہ جس طرح کام کے لیے چندہ لیا تھا اسی طرح کے دوسرے کام میں (خرچ ) کرے مثلاً تع...