اشاعتیں

اکتوبر, 2022 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

وقت سے پہلے اذان

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں زید اپنے گاؤں کی مسجد میں اذان دیتا ہے زید نے اک روز وقت سے پہلے اذان پڑھ دی اور وقت سے پہلے جماعت پڑھا دیا امام صاحب مسجد میں جب آئے تو امام صاحب نے ملازم سے پوچھا اچھا کیا آپ کو وقت سے پہلے آذان بھی پڑھ دیے ہیں اور وقت سے پہلے جماعت بھی بڑھا دیے ہیں لہذا عشاء آذان بھی ابھی دہرائی جائے اور جماعت بھی پھر سے پڑھی جائے امام صاحب نے اذان پڑھی اور جماعت پڑھایا لیکن زید نے جماعت سے نماز نہیں پڑھی اور اس دن سے زاید اذان دے کر کے تنہا نماز پڑھکر چلا جاتا ہے جماعت میں شریک نہیں ہوتا زید کا کہنا ہے کہ جب امام صاحب نے میری اذان کواذان نہیں سمجھے تو میں ان کے پیچھے فجر کی نماز نہیں پڑھوں گا جب کہ امام صاحب نے  مسئلے کو سمجھا بھی دیا اب زید پر کیا حکم لگتا ہے اور امام صاحب پر کیا حکم لگتا ہے ہے برائے کرم جواب دے کر شکریہ کا موقع دیں سائل  محمد کلام رضا ضلع موتیہاری بہار وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ  الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق  زید...

علماء کی توہین حرام ہے

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فر ما تے ہیں علمائے کرام  مفتیان عظام و محقق اسلام مسئلہ ذیل میں کہ زید اور بکر میں کسی بات پر بحث ہو رہی تھی  تو زید نے کہا کہ آج کے ہمارے سنی علماء پیچھے جلتے ہیں اور ان کا نظرانہ آگے آگے چلتا ہے تو سنی علماء کی گردن کاٹ دیں وہاں پر  عبداللہ بیٹھا تھا تو عبداللہ نے زید کو روکا اور کہا کہ آپ پر توبہ لازم ہے کیوں کہ اس جملہ میں ہمارے سنی علماءکرام۔  کی توہین ہے  آور زید نے توبہ نہیں کیا اور کہا کہ میرا سر کٹ جائے تو بھی توبہ نہیں کرونگا  تو اس صورت میں زید پر توبہ لازم ہو گا يا نہیں  آور عبد اللہ نے اسی محفل میں تجدیدِ ایمان بھی احتیاطاً کر لیا فقط و السلام  سائل محمد صادق اویسی  فرخ آباد یو پی وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ  الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق  زید کہنا مطلق ہے جو کہ غلط ہے سارے سنی علماء ایسے نہیں ہوتے یہ علماء ہی ہے جو اس قوم کو ماں کی گود سے لے کر لحد تک اور اس کے بعد بھی ہر نماز میں قوم کی بھلائی کی دعائیں کرتے ہیں لوگ ہمیشہ...

پیشاب کے قطرے والے کی نماز 620

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب سے، میرا سوال یہ ہے کہ اگر کسی کے پیشاب کے قطرے کی شکایت ہو تو نماز کسے پڑے۔ قاری محمد سلیم اکبری جالوری وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ  الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق  صورت مسئولہ میں  جس شخص کو پیشاب کے قطرے آتے ہوں چاہے پیشاب کرنے سے پہلے ہوں یا پیشاب کے بعد ہوں، یہ پیشاب کی بیماری تصور کی جاتی ہے، لیکن یہ شخص شرعاً معذوراس وقت شمار ہوگا جب کہ ایک مرتبہ فرض نماز پڑھنے کا وقت بھی اس عذر کے بغیر نہ گزرے ، چنانچہ اگرآپ کو یہ قطرے اس تسلسل سے آرہے ہیں کہ درمیان میں اتنا وقفہ بھی نہیں ملتا کہ ایک وقت کی فرض نماز ادا کر سکیں تو اس صورت میں آپ معذورین میں شامل ہیں، جن کا حکم یہ ہے کہ ہر فرض نماز کے وقت وضو کرلیا کریں اور پھر اس وضو سے اس ایک وقت میں جتنے چاہیں فرائض اور نوافل ادا کریں اور تلاوتِ قرآنِ کریم کرلیں، (اس ایک وقت کے درمیان میں جتنے بھی قطرے آجائیں آپ پاک ہی رہیں گے بشرطیکہ کوئی اور سبب وضو کوتوڑنے کانہ پایا جائے) یہاں تک کہ وقت ختم ہوجائے، یعنی جیسے ہی اس فرض نماز کا ...