مالی جرمانہ عائد کرنا؟ فتوی 618

السّلام علیکم ورحمۃ اللّٰه وبرکاتہ

*کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بچوں سے مدرسے یا اسکول کی چھٹی کرنے پر فائن یعنی مالی جرمانہ لینا جائز ہے یا نہیں؟ اور جو رقم بطورِ جرمانہ لے چکے اسے ادارے کے استعمال میں لاسکتے ہیں یا نہیں؟*
عبد المصطفیٰ، پنجاب پاکستان
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 
صورت مسئولہ میں  مالی جرمانہ 
وصول کرنا ناجائز و گناہ ہے اسلام میں مالی جرمانہ منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل کرنا ناجائز ہے   اسلام میں مالی جرمانہ جائز نہیں ۔چنانچہ بحرالرائق شرح کنز الدقائق میں ہے:’’التعزیر بالمال کان فی ابتداء الاسلام، ثم نسخ‘‘ ترجمہ:مالی جرمانہ اسلام کے ابتدائی دور میں تھا، پھر منسوخ ہوگیا۔



 (بحرالرائق شرح کنز الدقائق،ج5،ص68،مطبوعہ دارالکتب العلمیہ،بیروت)



    اور اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ ارشادفرماتے ہیں:’’تعزیر بالمال منسوخ ہےاور منسوخ پر عمل جائز نہیں۔درمختار میں ہے:’’ لا باخذمال فی المذھب‘‘ترجمہ:مالی جرمانہ مذہب کی رو سے جائز نہیں ہے۔‘‘



(فتاوی رضویہ،ج5،ص111،مطبوعہ رضافاونڈیشن،لاھور)

واللہ اعلم. ورسوله 
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی 
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 
تاریخ 18 ستمبر 2022

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598