درود کے بغیر دعا قبول نہیں فتوی 608 ؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

علمائے کرام کی بارگاہ میں ایک سوال عرض ہے کہ

کیا دعا کے اول و آخر میں جو درود شریف نہیں پڑھتے ہیں اس کی دعا قبول نہیں ہوتی ہے زمین و آسمان کے بیچ میں معلق رہتا ہے

جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں

سائل محمد اظہر الدین عظیمی بہار کھگڑیا پھولتوڑا
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 
درود شریف کے بغیر نماز ہے نہ دعا

حضرت سہیل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ آپ ؐ نے فرمایا جو شخص (نماز میں ) خدا کے نبی پر درود نہ بھیجے اس کی کوئی نماز نہیں ہے۔

(اجلاء لا فہام بحوالہ سنن نسائی )

حضرت عمر بن خطاب ؓ فرماتے ہیں کہ دعا آسمان اور زمین کے درمیان ٹھہر جاتی ہے اور جب تک تُوا پنے نبی ﷺ پر درود نہ بھیجے اس میں سے کوئی حصہ بھی (خدا تعالیٰ کے حضور پیش ہونے کے لئے) اوپر نہیں جاتا ۔ (جامع الترمذی رقم الحدیث 486 )     واللہ اعلم ورسوله 
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی 
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 
تاریخ 4 ستمبر 2022 بروز اتوار

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598