جس جانور کے ساتھ بدفعلی ہو اس کا حکم فتوی 602

سوال جس جانور کے ساتھ کسی نے بدفعلی کی تو اس جانور کا کیا حکم ہے  اس کے گوشت اور دودھ کا کیا حکم ہے اور اس سے پیدا ہونے والے بچے کو اپنے کام میں لا سکتے ہیں؟ سائل محمد اسماعیل قادری مالیاں موربی گجرات 
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں اس جانور کا گوشت یا دودھ کھانا منع ہے بلکہ ایسے جانور کو قتل کرنے کا حکم ہے جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو چوپائے سے صحبت کرے اسے قتل کر دو اور جانور کو بھی اس کے ساتھ قتل کر دو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ جانور کا کیا قصور ہے؟ فرمایا میں نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہیں سنا لیکن میں خیال کرتا ہوں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ناپسند فرمایا کہ اس کا گوشت کھایا جائے یا اس سے نفع اٹھایا جائے حالانکہ اس کے ساتھ یہ حرکت کی جا چکی ہے!  اس حدیث کی شرح میں حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں اسے (جانور ) کو مار کر جلا دینا یا دفن کر دینا ہے اور یہ جانور کا قتل اس لئے ہے کہ اس سے مخلوط بچہ نہ پیدا ہو جائے الخ (فتاوٰی جاویدیہ دوم صفحہ 123 بحوالہ مراتہ المناجیح جلد پنجم صفحہ 484 )  حضرت مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے جانور کے ساتھ برا کام کرنے پر تعزیر ہے کہ بادشاہ اسلام جو مناسب سمجھے سزا دے حدیث میں ہے جو جانور سے وطی کرے اسے مار ڈالوں اور جانور کو بھی قتل کر ڈالو درمختار میں ہے جانور سے وطی کرنے والے کو سزا دی جائے گی اور جانور کو ذبح کر کے جلا دیا جائے اور اس سے نفع اٹھانا مکروہ ہے (فتاوٰی امجدیہ جلد دوم صفحہ 325 )  صاحب ہدایہ نے اس کی یہ علت بیان کی ہے کہ اگر وہ جانور زندہ رہے گا تو اسے دیکھ کر تشہیر ہوتی رہے گی لوگ کہیں گے یہی وہ جانور ہے جس کے ساتھ فلاں نے ایسا کیا بعض شراح نے یہ علت بیان کی ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس جانور سے ایسا بچہ پیدا ہو جو خلقت میں انسان کے مشابہ ہو جو اس کے بعض اعضاء انسان جیسے ہو  (فتاوٰی امجدیہ جلد دوم صفحہ 325 )  خلاصہ کلام اس جانور سے کسی بھی طرح کا نفع اٹھانا درست نہیں جیسا کہ ہم آئے دن دیکھتے ہیں کہ فلاں جگہ بکری کا بچہ انسان جیسا پیدا ہوا ہے یہ سب اس زنا کے پانی سے ہی ہوتا ہے لہٰذا ایسے جانور کو ذبح کر کے دفن کر دیا جائے  اور واضح رہے کہ اس سے بدفعلی کرنے والے کو جو قتل کا حکم ہے یہ سزا بادشاہ اسلام کا کام ہے ہر کسی کا نہیں البتہ ایسے مجرموں کے لیے ہمارے ملک میں بھی قانون ہے لہٰذا اسے قانون کے حوالے کر دینا چاہیے واللہ اعلم و رسولہ 
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی 
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 
تاریخ 12 اگست 2022

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598