مکروہ وقت میں تلاوت قرآن؟ فتوی نمبر 594
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل میں کہ مکروہ وقت میں تلاوت قرآن پاک کرنا کیسا جواب عنایت فرمائیں
سائل قاری شاہد رضا کوٹھی گجرات
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
طلوعِ آفتاب سے لے کر تقریباً بیس منٹ تک، غروبِ آفتاب سے پہلے کے بیس منٹ اور ضحوہ کبریٰ سے لے کر زوالِ آفتاب تک مکروہ وقت ہوتا ہے۔ ان اوقات میں تلاوتِقرآنِ کریم کرنا، بہتر نہیں ہے۔بہتر یہ ہے کہ ذکر و اذکار کئے جائیں۔البتہ اگر کسی نے ان اوقات میں تلاوت کرلی تو وہ گناہگار نہیں۔
بہارِ شریعت میں ہے: ”ان اوقات میں تلاوتِ قرآنِ مجید بہتر نہیں، بہتر یہ ہے کہ ذکر ودُرود شریف میں مشغول رہے
(بہار شریعت حصہ سوم صفحہ 455 ) واللہ اعلم و رسولہ
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تاریخ 28 جولائی 2022
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں