قبرستان کی گھاس دوائی سے مٹانا فتوی 593

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل میں کہ ابھی بارش کے موسم میں قبرستان میں گھاس بہت زیادہ ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے قبرستان میں تدفین کے لئے جانے میں  بہت تکلیف ہوتی ہے اور گھاس کی وجہ سے موذی جانور کا خوف رہتا ہے  تو کیا قبرستان میں دوائی چھڑک سکتے ہیں تاکہ گھاس دوبارہ نہ ہو جواب عنایت فرمائیں سائل عبدالشکور حیدرآباد پاکستان 
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 
قبرستان کی تر گھاس کو مٹانا مکروہ ہے امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں قبرستان سے تر گھاس کاٹنا مکروہ ہے  (فتاوی رضویہ جلد 16 صفحہ 91 )  تر گھاس جب تک سبز رہتی ہیں  خدا کی تسبیح کرتی ہیں اور اس سے میت کو انس حاصل ہوتا ہے اس لئے قبرستان سے تر گھاس کاٹنا مکروہ ہے  (فتاوی ملک العلماء صفحہ 375 ) 
فتاوی قاضی خان میں ہے قبرستان سے تر گھاس کاٹنا مکروہ ہے اگر خشک ہو تو کوئی حرج نہیں اس لئے کہ جب تک گھاس تر رہتی ہے خدا کی تسبیح کرتی رہتی ہے جس کی وجہ سے میت کو خوشگوار کا احساس ہوتا ہے اسی بنا پر فقہاء کرام نے فرمایا ہے کہ تر گھاس کو ضرورت کے بغیر نہ کاٹا جائے  (فتاوی قاضی خان جلد اول صفحہ 407 )
خلاصہ کلام گھاس کاٹنے کا جو حکم منع کا ہے وہ بلا وجہ کاٹنا ہے اور جب ضرورت ہو تو کاٹ سکتے ہیں جیسا کہ قاضی خان کی عبارت سے معلوم ہوا  اب صورت مسئولہ میں دوائی چھڑک نے کا یہ طریقہ اختیار کیا جائے کہ اصل قبروں پر جو گھاس ہے اسے نہ مٹایا جائے باقی ضرورت کے مطابق دوائی کا چھڑکنا چاہیے مگر پہلے قبر پر پلاسٹک رکھ دیں تاکہ دوائی قبر پر نہ پڑے  اور ہو سکے تو دوائی کے بجائے گھاس کو کاٹ دیا جائے  اگر یہ مشکل ہے تو پھر دوائی کی اجازت ضرورت کے مطابق دی جاتی ہے واللہ اعلم و رسولہ 
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی 
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 
تاریخ 26 جولائی 2022

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598