جہری نماز میں سری پڑھا؟ فتوی نمبر 592
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل میں کہ امام نے مغرب کی نماز میں پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کا کچھ حصہ آہستہ پڑھا پھر یاد آنے پر باقی میں جہر سے پڑھا تو نماز کا کیا حکم ہے سائل محمد علی سانواں
وعلیکم اسلام ورحمتہ اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں امام نے جہری قرائت میں کچھ حصہ سری پڑھا پھر جہری تو سجدہ سہو واجب ہے مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں امام نے جہری نماز میں بقدر جواز نماز یعنی ایک آیت آہستہ پڑھی یا سری میں جہر سے تو سجدہ سہو واجب ہے اور ایک کلمہ آہستہ یا جہر سے پڑھا تو معاف ہے (بہار شریعت حصہ چہارم صفحہ 719 )
حضرت علامہ محمدشریف الحق امجدی علیہ رحمۃ اللہ القوی فتاوی امجدیہ کے حاشیہ میں فر ماتے ہیں:”آہستہ آہستہ سورہ فاتحہ پڑھتارہا، پھر بلندآوازسےپڑھناشروع کیا،تواگرسورہ فاتحہ کااکثر حصہ پڑھ لیا تھا پھر شروع سے پڑھنا شروع کیا تو بھی سجدہ سہو واجب کہ یہ اکثرسورہ فاتحہ کی تکرارہوئی اوریہ موجب سجدہ سہوہےاگردونوں دفعہ بلاقصدسہواہواہوتو۔اوراگربالقصدتکرارکی تواعادہ واجب اور اگر سورہ فاتحہ کا اکثر حصہ نہیں پڑھا تھا تونہ سجدہ سہوہے نہ اعادہ “
(فتاوی امجدیہ، کتاب الصلوۃ ،جلد01،صفحہ282، ) فتاوی اہلسنت میں ہے سورہ فاتحہ کی ایک آیت بھول کر آہستہ پڑھنے کے بعدجب امام صاحب نے دوبارہ اس آیت کو جہر سے پڑھ لیا،تو سجدہ سہوساقط ہوگیا،یونہی اگرامام سورہ فاتحہ کی دویاتین آیتیں آہستہ پڑھنے کے بعددوبارہ جہرسے ان کااعادہ کرلے،تواس صورت میں بھی سجدہ سہوساقط ہوجائے گا۔
اس مسئلے کی تفصیل درج ذیل ہے :
امام اگرجہری نماز میں بقدرجوازِ نماز یعنی ایک آیت بھی آہستہ پڑھ لے تو سجدہ سہوواجب ہوجاتاہے، البتہ قراءت کا جہرکے ساتھ اعادہ کرنےسے سجدہ سہوساقط ہوجاتاہے۔مگریہ مسئلہ اچھی طرح ذہن نشین رہے کہ جس طرح امام کے لیےجہری نمازمیں جہرکرنا واجب ہے،یونہی امام ہو یامنفرد ہرایک کے لیے ضروری ہے کہ وہ سورہ فاتحہ کے اکثرحصے کا تکرار نہ کرے ،اس لیے کہ سورہ فاتحہ کے اکثرحصے کاتکرارنہ کرنابھی نماز کاواجب ہےاورجان بوجھ کر واجب ترک کرنے سے نماز واجب الاعادہ ہوجاتی ہے ۔صورت مسئولہ میں چونکہ امام نے سورہ فاتحہ کااکثرحصہ سراً نہیں پڑھاتھالہذا دوبارہ جہراً پڑھنے سے سورہ فاتحہ کے اکثرحصے کی تکرارنہیں ہوگی اور جہرکے ساتھ قراءت نہ کرنے سے لازم ہونے والاسجدہ سہو، جہرکے ساتھ قراءت کا اعادہ کرنے سےساقط ہوجائے گا۔
سری نماز میں جہری قراءت کرنے اور جہری نماز میں سری قراءت کرنے کے متعلق فتاوی عالمگیری میں ہے:”لو جھر فیما یخافت او خافت فیما یجھر وجب علیہ سجود السھو واختلفوا فی مقدار مایجب بہ السھو منھما قیل یعتبر فی الفصلین بقدر ماتجوز بہ الصلاۃ وھوالاصح“یعنی اگرامام نے سری نماز میں جہری قراءت کی یا جہری نماز میں سری قراءت کی تو سجدہ سہو واجب ہوجائے گا ۔ پھرفقہاء کا اس مقدار کے متعلق اختلاف ہے جس سے سجدہ سہو لازم ہوتا ہے ۔ کہاگیا ہے کہ دونوں صورتوں میں بقدر جواز نماز معتبر ہے اور یہی اصح ہے۔
واللہ اعلم و رسولہ
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تاریخ 26 جولائی 2022
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں