لقطہ کا حکم فتوی 591

السلام عليكم 
حضرت ایک انسان ہے اس کے پاس بیمار دمبا بھیڑ  ہے اب وہ انسان اس بیمار دمبا کسی کی کھیت مے چھوڈ  دیتا ہے کے ے دمبا مر جاۓگا  مجھے نہیں چاہیے اب جس کا کھیت  ہے اس نے اس دمبا کو لے لیا اور اسکی دیکھ بھال کی اچھا ہو گیا اب اس کسان نے اس دمبا کو بیچ دیا اب جو رقم اس دمبا کی ملی کیا اس کھیت والے انسان کے لئے وہ  پیسہاپنے لئے خرچ کرنا  جائز  ہوگا
محمّد سلطان اشرفی  گجرات بہاؤنگر
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ 
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 
یہ جانور لقطہ کے حکم ہوگا اور لقطہ کے بارے حکم یہ ہے کہ 
ملتقط کو لقطہ کی  کوئی اُجرت نہیں  ملے گی اگرچہ کتنی ہی دور سے اُٹھا لایا ہو اور لقطہ اگر جانورہو اور اُس کے کھلانے میں   کچھ خرچ کیا ہو تو اس کامعاوضہ بھی نہیں  پائے گا ہاں  اگر قاضی کی  اجازت سے ہواوراُس نے کہدیا ہو کہ اس پر خرچ کرو جوکچھ خرچ ہوگا مالک سے وصول کرلینا تو اب مصارف لے سکتا ( اور اگر یہ فقیر ہے اور جانور کا مالک واپس لینے کا مطالبہ نہیں کرتا تو خود اپنے صرف میں لا سکتا ہے   )  جیسا کہ مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں اٹھانے والا اگر فقیر ہے تو مدت مذکور تک اعلان کے بعد خود اپنے صرف میں بھی لا سکتا ہے اور مالدار ہے تو اپنے رشتہ دار فقیر کو دے سکتا ہے 
اور لقطہ کی تشہیر لازم ہے مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں ! ملتقط پر تشہیر لازم ہے یعنی بازاروں  اور شارع عام (3)اور مساجد میں   اتنے زمانہ تک اعلان کرے کہ ظن غالب ہو جائے کہ مالک اب تلاش نہ کرتا ہوگا۔ یہ مدت پوری ہونے کے بعد اُسے اختیار ہے کہ لقطہ کی  حفاظت کرے یا کسی مسکین پر تصد ق کردے۔(4)   مسکین کو دینے کے بعد اگر مالک آگیا تو اسے اختیار ہے کہ صدقہ کو جائز کردے یا نہ کرے اگر جائز کر دیا ثواب پائے گا اور جائز نہ کیا تو اگر وہ چیزموجود ہے اپنی چیز لے لے اور ہلاک ہوگئی ہے تو تاوان لے گا۔ یہ اختیار ہے کہ ملتقط سے تاوان لے یا مسکین سے، جس سے بھی لے گا وہ دوسرے سے رجوع نہیں  کرسکتا۔(بہارشریعت حصہ دہم صفحہ 479 ) 
مگر یہاں صورت مسئولہ میں مالک بے پروا ہے اور نہ مالک اس کا مطالبہ کرے گا تو یہ جائز ہے 
 واللہ عالم و رسولہ 
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی 
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 
تاریخ 25 جولائی 2022

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598