نمازمیں نظر؟ فتوی نمبر 590
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسلہ ذیل کے بارے میں کہ ہمارے جامع مسجد کے امام صاحب نماز پڑھا تے وقت اوپر دیکھکر نماز پڑھاتے ہیں یعنی حالت نماز میں امام صاحب کی نگاہیں باالکل سامنے والی دیوار کے اوپر جہاں چھت ملتی ہے وہاں رہتی ہے کیا امام صاحب کا اسطرح نماز پڑھانا درست ہے یا نہیں ۔ حالت نماز میں امام صاحب کی نگاہیں کہاں رہنی چاہئے ۔زید کا کہنا ہے کہ ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں ۔مفتی صاحبانِ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں شکریہ *جمیل اختر اشرفی گجرات وانکانیر انڈیا*
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
نماز میں حالت قیام میں نظر سجدہ کی جگہ ہونی چاہیے! ادھر ادھر منھ پیھر کر دیکھنا مکروہ تحریمی ہے اور اگر منھ نہ پھیرے صرف کنکھیوں سے ادھر ادھر بلا حاجت دیکھے کراہت تنزیہی ہے (بہار شریعت حصہ سوم صفحہ 626 ) امام کی اقتداء صحیح ہے اس میں کوئی حرج نہیں لوگ امام کی اقتداء کرتے ہیں یا اس کو دیکھ رہے ہوتے ہیں امام کے بجائے اپنی عادتوں میں سدھار کرے ہر بات میں امام کی نقطہ چینی نہ کرے پہلی بات تو امام اپنی مسجدوں میں عالم رکھنا چاہیے تاکہ ایسے سوالات کی نوبت ہی نہ آئے لوگوں پر افسوس ہے کہ امام عالم رکھنے کے لیے تنخواہ دینی تو انھیں بوجھ محسوس ہوتا ہے اور پھر کم پڑھا لکھا امام رکھ کر بھی اسے اپنا غلام سمجھنے لگ جاتے خبردار امام کی نقطہ چینی سے بچے ورنہ یہ حلاکت ہے واللہ اعلم و رسولہ
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تاریخ 25 جولائی 2022
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں