غیر عربی میں خطبہ؟ فتوی نمبر 588
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماٸے دین اس مسٸلہ میں کہ جمعہ کے دن اردو اور عربی خطبہ دونوں منبر پر ہوتے ہیں اور جمعہ کی اذان ثانی خطیب کے سامنے ہوتی ہے۔ زید نے کہا کہ اردو بیان منبر سے ہٹ کر نیچے ہونا چاہٸے اور عربی خطبہ منبر پر اور اذان ثانی مسجد کے دروازے پر لیکن مسجد کے ممبران اور عمر جو مولانا ہیں انہونے کہا کہ خطبہ کسی بھی زبان میں دے سکتے ہیں، اردو اور عربی دونوں خطبے منبر پر ہی ہونا چاہٸےاور جمعہ کی اذان ثانی خطیب کے روبرو۔اور عمر نے کہا کہ یہی امام اعظم کا مسلک ہے اور یہی صحیحی طریقہ ہے ،از روع شرع زید کا کہنا صحیح ہے یا عمر کا۔
الساٸل ۔ سید عارف اللہ قادری رضوی ۔
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب وباللہ توفیق ۔۔۔۔خطبہ جمعہ غیر عربی میں پڑھنا منع ہے فتاوی نوریہ جلد اوّل صفہ ۵۹۵) میں ہے خطبہ میں پنجابی یا اردو کا استعمال کرنا سنت کے خلاف ہے اور برا ہے ! حضرت فقیہ ملت رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہے
خطبہ عربی اردو ترجمہ کے ساتھ پڑھنا سنت متواثرہ کے خلاف ہے اور مکروہ ہے اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہری زمانہ مبارکہ سے صحابہ کرام و تابعین عظام اور ائمہ رضوان اللہ علیہم کے زمانہ مبارکہ تک اسلام بے شمار عجمی شہروں میں شائع ہوا مسجدیں بنیں اور ممبر نصب ہوئے مگر کبھی عربی زبان کے علاوہ کسی نے دوسری زبان میں خطبہ فرمایا یا خطبہ میں دوسری زبانیں ملانا مروی نہ ہوا جس سے ظاہر ہو کہ خطبہ میں دوسری زبان ملانا سنت متوارثرہ کے مخالف اور مکروہ ہے (فتاوی فیض الرسول جلد اوّل صفحہ 409)
مفتی حضرت امجد علی اعظمی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہے غیر عربی میں خطبہ پڑھنا یا عربی کے ساتھ دوسری زبان خطبہ میں خلط کرنا خلاف سنت متوارثہ ہے (بہار شریعت حصہ چارہم صفحہ 98)
اور خطبہ کی آذان امام کے سامنے مسجد کے دروازہ پر یعنی باہر دی جائے سنت ہے البتہ ممبر کے پاس ادندر آذان پڑھنا بدعت ہے (فتاوی فیض الرسول جلد اوّل صفحہ ۴۱۶) لہاذا زید کا کہنا درست ہے
واللہ اعلم ورسولہ
ابواحمد ایم جے اکبری قادری حنفی
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تاریخ ۲۴جولائی ۲۰۲۲
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں