پیدل حج کرنا کیسا؟ فتوی نمبر 587
کیا فرماتے ہے مفتیان کرام مسئلہ ذیل میں پیدل حج پر جانا کیسا ہے جبکہ سواری کا انتظام بھی ہو سکتا ہے اور سواری کا خرچ بھی برداسشت کر سکتا ہو جواب عنایت فرمائے سائل محمد شعب
الجواب وباللہ توفیق ساری سہولیت ہوتے ہوئے بھی پیدل حج کرنا جائز ہے بلک افضل ہے اللہ تعالی فرماتا ہے
وَاَذِّنۡ فِى النَّاسِ بِالۡحَجِّ يَاۡتُوۡكَ رِجَالًا وَّعَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ يَّاۡتِيۡنَ مِنۡ كُلِّ فَجٍّ عَمِيۡقٍ (الحج آیت ۲۷)
ترجمہ:
اور لوگوں میں بلند آواز سے حج کا اعلن کیجیے وہ آپ کے پاس دور دراز راستوں سے پیدل اور ہر دبلے اونٹ پر سوار ہو کر آئیں گے اس آیت کی تفسیر میں حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہے اس سے معلوم ہوا کہ پیادہ حج کرنا سواری کے حج سے افضل ہے تکلیف حج میسر ہونا آرام کے حج سے افضل ہے دور سے وہاں پہنچنا وہاں کے حج سے افضل ہے (تفسیر نور العرفان الحج آیت ۲۷) اسی آیت کے تحت حضرت مفتی محمد قاسم صاحب فرماتے ہے
پیدل حج کرنے کے فضائل:
اس آیت میں حج کے لئے پیدل آنے والوں کا پہلے ذکر کیا گیا ،اس سے معلوم ہو اکہ پیدل حج کرنا بہت فضیلت کا باعث ہے ۔اسی مناسبت سے یہاں مکہ مکرمہ سے پیدل حج کرنے کے دو فضائل ملاحظہ ہوں :
(1)… حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے مکہ سے پیدل حج شروع کیا حتّٰی کہ (حج مکمل کرکے) مکہ لوٹ آیا تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلے سات سو نیکیاں حرم کی نیکیوں میں لکھے گا۔ عرض کی گئی : حرم کی نیکیاں کیا ہیں ؟ ارشاد فرمایا ’’ہر نیکی کے بدلے ایک لاکھ نیکیاں ۔( مستدرک، اول کتاب المناسک، فضیلۃ الحجّ ماشیاً، ۲ / ۱۱۴، الحدیث: ۱۷۳۵)
(2)…حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’سوار ہو کر حج کرنے والے کے لئے ہر اس قدم کے بدلے میں ستر نیکیاں ہیں جو ا س کی سواری چلے اور پیدل حج کرنے والے کے لئے ہر قدم کے بدلے حرم کی نیکیوں میں سے سات سو نیکیاں ہیں ۔ کسی نے عرض کی:یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، حرم کی نیکیاں کیا ہیں ؟ ارشاد فرمایا ’’ایک نیکی ایک لاکھ نیکیوں کے برابر ہے۔( مسند البزار، مسند ابن عباس رضی اللہ عنہما، ۱۲ / ۳۱۳، الحدیث: ۵۱۱۹)
{لِیَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ:تاکہ وہ اپنے فوائد پر حاضر ہوجائیں ۔} اس سے پہلی آیات میں حج کرنے کا حکم دیا گیا اور اب اس حکم کی حکمت بیان کی جارہی ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ لوگوں کو حج کے لئے بلائیں تاکہ وہ حج کر کے اپنے دینی اور دُنْیَوی دونوں طرح کے وہ فوائد حاصل کریں جو اس عباد ت کے ساتھ خاص ہیں ، دوسری عبادت میں نہیں پائے جاتے۔( تفسیرکبیر، الحج، تحت الآیۃ: ۲۸، ۸ / ۲۲۰، مدارک، الحج، تحت الآیۃ: ۲۸، ص۷۳۷) (تفسیر صراط الجنان الحج آیت ۲۷)
تفسیر الحسنات میں ہے رجال کے معنی راجل پیادہ پاچلنے والے کے ہیں اور ضامر مبزول کے معنی میں مستعمل ہے اور لفظ ضامر مذکور مونث دونوں پر مستعمل ہوتا ہے۔
آیہ کریمہ میں اول رجال یعنی پیادہ پا فرمایا اور بعد میں ضامر کہا اس سے علماء محققین نے استدلال فرمایا کہ ان لامشی افضل ۔ پیدل جانا افضل ہے۔
چنانچہ ابن سعد اور ابن مردویہ بحدیث مرفوع ناقل ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے میں نے سنا کہ فرماتے تھے۔ ان للحاج الراکب بکل خطوۃ تخطوھا راحلتہ سبعین حسنۃ وللماشی بکل قدم سبعمائۃ حسنۃ من حسنات الحرم قیل یارسول اللہ وما حسنات الحرم قال الحسنۃ مائۃ الف حسنۃ۔ پیدل حاجیوں کو ہر قدم پر جوان کی سواری اٹھائے گی ستر نیکیاں ملتی ہیں اور پاپیادہ کے لئے ہر قدم پر سات سو نیکیاں حرم کی نیکیوں میں سے۔ عرض کیا گیا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حرم کی نیکیاں کیا ہیں۔ فرمایا ایک نیکی ایک لاکھ نیکیوں کے برابر ہے۔
اور ابن ابی شیبہ مجاہد سے راوی ہیں کہ ان ابراھیم واسماعیل علیھما السلام حجاوھما ما شیان۔ ابراہیم و اسماعیل (علیہما السلام) نے پیادہ پا حج کیا۔ خلاصہ کام جس انسان میں اتنی قوت ہو کہ پیدل حج کر سکے اور سخت بیمار ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو اسے پیدل حج کرنا افضل ہے ورنہ سخت تکلیف اٹھا کر حج کرنا کہ بیمار ہو جائے مناسب نہیں
واللہ اعلم ورسولہ
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تاریخ ۲۴ جولائی ۲۰۲۲
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں