قربانی کے گوشت پر فاتحہ؟ فتوی 580

کیا فرماتے ہے مفتیان کرام مسئلہ ذیل میں کہ قربانی کے گوشت پر فاتحہ دینا کیسا ہے جواب عنایت فرمائیں سائل محمد یوسف اکبری 

الجواب وباللہ توفیق 

قربانی کا اصل مقصد تقوی ہے اور وہ اللہ کی راہ میں ذبح کرنے سے حاصل ہو جاتا ہے اللہ فرماتا ہے 

لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْؕ-كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْؕ-وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ(37)

 ترجمۂ کنز الایمان

اللہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ ان کے خون ہاں تمہاری پرہیزگاری اس تک باریاب ہوتی ہے یونہی ان کو تمہارے بس میں کردیا کہ تم اللہ کی بڑائی بولو اس پر کہ تم کو ہدایت فرمائی اور اے محبوب خوش خبری سناؤ نیکی والوں کو۔(سورت الحج آیت ۳۷)

قربانی کے گوشت پر فاتحہ آپ بھی کر سکتے اور جس کو گوشت دیا وہ بھی فاتحہ کر سکتے ہے جیسا (فتاوی مرکز تربیت افتاء جلد دوم صفحہ ۳۲۲) پر ہے ہر پاک اور حلال چیز پر فاتحہ دینا جائز ہے شرح مطہر نے اس کے لیے کسی معین چیز کی تخصیص نہ فرمائی لہاذا قربانی کے گوشت پر فاتحہ دینا جائز ہے !

واللہ اعلم ورسولہ 

کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی 

دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 

تاریخ ۱۰جولائی ۲۰۲۲

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598