نماز میں شک ہو کہ تین پڑھی یا چار

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام نماز پڑھنے میں بار بار یہ شک ہوتا ہے کہ تین پڑھی یا چار تو کیا حکم ہے 
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 
صورت مسئولہ   اگر کوئی شخص نماز کے دوران رکعات کی تعداد بھول جائے  اور اس کو یاد نہ ہو کہ اس نے چار رکعت پڑھی ہیں یا تین؟ تو اس کا حکم یہ ہے کہ:

1-  اگر  اس کا بھولنا پہلی مرتبہ ہوا ہے یا زندگی میں شاذ ونادر ایسا ہو تو  اسے نئے سرے سے نماز پڑھنا چاہیے۔

2- اگر شک ہوتا رہتا ہے اور رکعتوں کی تعداد بھولتا رہتا ہے تو پھر غالب گمان پر عمل کرنا چاہیے، یعنی جتنی رکعتیں غالب گمان سے اس کو یاد پڑیں، اسی قدر رکعتوں کے بارے میں  یہ خیال کرے کہ پڑھ چکا ہے، اگر اس حساب سے تین ہوچکی ہیں تو مزید ایک رکعت پڑھ کر نماز مکمل کرے اور سجدہ سہو کرے، اور اگر اس کے حساب سے چار رکعت ہوچکی ہیں تو آخر میں سجدہ سہو کرکے نماز مکمل کرلے۔

3- اور اگر غالب گمان کسی طرف نہ ہو تو کمی کی جانب اختیار کرے مثلاً کسی کو تین یا چار رکعت میں شک ہوجائے اور یہ شک پہلی مرتبہ نہ ہوا ہو اور غالب گمان کسی طرف نہ ہو تو اس کو چاہیے کہ تین رکعتیں شمار کرے اور ایک رکعت مزید پڑھ کر  نماز پوری کرے اور آخر میں سجدہ سہو بھی کرے۔ نیز اس صورت میں شک ہونے کے بعد والی ہر رکعت میں قعدہ بھی کرے، کیوں کہ مثلاً اگر تین رکعت اختیار کیں تو امکان موجود ہے کہ یہ چوتھی رکعت ہو، لہٰذا تیسری رکعت کے بعد بھی قعدہ کرے، اسی طرح اگر ایک یا دو رکعت میں شک ہوجائے اور  کسی طرف رجحان نہ ہو تو ایک رکعت اختیار کرے، اس صورت میں ہر رکعت میں قعدہ بھی کرے، کیوں کہ اس نے جس رکعت کو پہلی شمار کیا ہے ممکن ہے کہ وہ دوسری رکعت ہو، اسی طرح تیسری رکعت میں امکان ہے وہ چوتھی رکعت ہو، جب کہ دوسری اور چوتھی رکعت میں تو قعدہ ویسے بھی ضروری ہے۔ بہرحال چوتھی رکعت کے بعد قعدہ کرکے سجدہ سہو بھی کرے۔

آخری دونوں صورتوں میں اگر سجدہ سہو کرنا بھول گیا  اور نماز کا وقت باقی ہے تو اس نماز کا اعادہ کرنا ضروری ہے، اور اگر نماز کا وقت گزرگیا ہو تو اب اعادہ کرنے کی تاکید کم ہے، البتہ اس نماز کا اعادہ کرلینا زیادہ بہتر ہے۔(ردالمتار درمختار جلد سوم صفحہ 114 )
واللہ اعلم و رسولہ 
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی 
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 
تاریخ 30 جون 2022

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598