قربانی کا گوشت کافر کو دینا منع ہے
السلام علیکم و رحمۃ الله وبرکاتہ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسٔلہ ذیل کے بارے میں کے قربانی کا گوشت ہمارے ملکِ ھند میں کافروں کو کھلا سکتے ہیں کچھ ائمہ حضرات کا کہنا ہے کہ کافروں کوگوشت نہیں دے سکتے لیکن اپنے گھر پر کافروں کو کھلا سکتے ہیں کیا کافروں کو گھر پر بلا کر کھلا نا جائز ہے مفصل جواب عنایت فرمائے۔
سائل حافظ غلام جیلانی مظفر پور بہار
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
قربانی کے گوشت کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآسَِا الْفَقِيْرَٞپس اس سے کھاو ٔاور فاقہ کش فقیر کو بھی کھلاو(ٔ۔سورۃ الحج آیت نمبر۲۸)
اور فرمایا: فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّ پس اس میں سے کھاؤ اور امیر و غریب کو کھلاؤ۔(سورۃ الحج آیت نمبر۳۶ )
امام احمد رضا خان رحمتہ علیہ فرماتے ہے
بھنگی وغیرہ کسی کافر کو قربانی یا اور کوئی صدقہ دینا جائز نہیں ہر گز نہ دے۔(فتاوی رضویہ جلد14 صفحہ705)
مفتی امجد علی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہے
قربانی کا گوشت کافر کو نہ دے کہ یہاں کے کفار حربی ہیں(بہار شریعت 347) اعلی حضرت امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قربانی کا گوشت کافر کو دینا منع ہے اپنے مسلمان بھائی کو چوڑ کر اسے دینا حماقت ہے (فتاوٰی رضویہ جلد 20 صفحہ 456 )
واللہ اعلم و رسولہ
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تاریخ 30 جون 2022
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں