تاڑی پینا کیسا؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
علمائے کرام کی بارگاہ میں ایک سوال عرض ہے کہ
تاڑی پینا کیسا ہے وہ تاڑ اور کھجور کی رس ہوتی ہے
زیادہ پینے پر نشا لگ جاتا ہے 
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ شراب کے بارے میں قرآن مجید میں آیا ہے کہ پینا حرام ہے تاڑی پینا حرام نھیں لکھا ہے  
جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں
سائل محمد اظہر الدین عظیمی بہار
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ 
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 
امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں 
تاڑی فی نفسہ ایک درخت کاعرق ہے۔ جب تک اس میں جوش وسکر نہ آئے طیب وحلال ہے جیسے شیرہ ا نگور ، لوگوں کا بیان ہے کہ اگر کور اگھڑاوقت مغر ب باندھیں اور وقت طلوع اتار کر اسی وقت استعال کریں تو اس میں جوش نہیں آتا۔ اگر یہ امر ثابت ہو تو اس وقت تک وہ حلال وطاہر ہوتی ہے۔ جب جوش لائے ناپاک وحرام ہوئی، مگر اس میں تنقیح طلب یہ امر ہے کہ آیا حرارت ہوا بھی چند گھنٹے یا چند پہر ٹھہرنے کے بعد اس عرق میں جوش وتغیر لاتی ہے یانہیں، اگر ثابت ہو تو شام کے وقت تاڑی چند پیڑوں سے بقدر معتدبہ نکال کر کسی ظرف میں بند کرکے صبح تک رکھ چھوڑیں تو ہرگز متغیر نہ ہوگی جب تک آفتاب نکل کر دیر تک دھوپ سے اس میں فعل نہ کرے جوش نہیں لاتی تو اس صورت میں وہ بیان مذکور ضرور پایہ ثبوت کو پہنچے گا ورنہ صراحت معلوم ہے کہ شام کو جو گھڑا لگایا جائے گا تاڑی اس میں صبح تک بتدریج آیا کرے گی تو وہ اجزاء کہ اول شام آئے تھے طول مدت کے سبب حرارت ہو اسے ان کا تغیر منظنون ہے اور جوش وتغیر محسوس نہ ہونا اس وجہ سے ہے کہ وہ اجزاء جنھیں مدت اس قدر نہ گزرے کہ ہنوز تغیر کی حد تک نہ پہنچے کثیروغالب میں اس تقدیر پر اس سے احتراز میں سلامتی ہے۔(فتاوی رضویہ جلد 21 صفحہ 638 ) واللہ اعلم و رسولہ 
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی 
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 
تاریخ 9 مئی بروز پیر 2022

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598