حرام کاروبار کرنا؟
السلامُ علیکم و رحمت اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک آدمی کاروبار کے لئے دوسرے ملک میں گیا اور اس سے کہا گیا تھا کہ آپ کو سوپر مارکیٹ میں کام کرنا ہے اب وہاں اس سے شراب کی بوتل لانا اور کسٹمبرتک پہنچانا اور سور کا گوشت لانا اور کسٹمبر تک پہنچانے کا کام دیا ہے
اب اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اس کو 2/3 لاکھ جرمانہ دینا پڑے گا اور اس آدمی کے پاس اتنی رقم نہیں ہے تو کیا کرے
کیا مجبوری میں یہ کاروبار کرنا جائز ہے؟
والسلام: السائل علی شاہ
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
صورت مسئولہ میں سائل کے بیان سے عندالشرع حکم نہیں بدلتا اسے چاہے کے ملکی قوانین کے مطابق فراٹے شخص پر کاروائی کرے اور جلد سے جلد اس کاروبار سے توبہ کرے سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص نے عیسائیوں کے ہاں اجرت پر بگل بجانے کی ملازمت اختیار کی اس شرط پر کہ اسے یومیہ پانچ درہم ملیں گے، اور کسی دوسرے (جائز کام پر )ہر روز اسے ایک درہم دئے جانے کا وعدہ ہوا تو پھر اس پر لازم ہے کہ وہ دوسری جگہ رزق حلال تلاش کرے لہذا تھوڑی اجرت پرجائز کام کرے اور زیادہ پر حرام کام نہ کرے) (فتاوی رضویہ جلد 21 صفحہ 197 ) بہرحال سائل کی ایسی کوئی مجبوری نہیں جرمانہ کے لئے مال کی جو ضرورت ہے اور یہ طاقت نہیں رکھتا تو اب لوگوں سے سوال کر سکتا ہے اس بلا سے نکلنے کے لئے لیکن کسی بھی حال میں اسے یہ کام کرنا جائز نہیں واللہ اعلم و رسولہ
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تاریخ 12 مئی 2022 بروز جمعرات
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں