بدمذہبوں سے چندہ لینا؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل میں ہمارے یہاں کچھ لوگ جماعت اسلامی کے ہے اور کچھ دیوبندی کچھ رافضی وغیرہ جب کوئی دینی کام ہوتا ہے تو یہ لوگ بھی امداد کرتے ہیں تو کیا ان لوگوں سے امداد لینا جائز ہے جواب عنایت فرمائیں سائل عبداللہ حیدر گجرات
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
صورت مسئولہ میں بدمذہب کے لوگوں سے دینی یا دنیاوی کسی بھی طرح کی مالی امداد لینا جائز نہیں،
مسلم کی حدیث ہے رسول اکرم صَلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بدمذہب اگر بیمار پڑ جائے تو اس کی عیادت نہ کرو اگر مر جائے تو جنازہ میں شرکت نہ کرو ان سے ملاقات ہو تو انھیں سلام نہ کرو ان کے پاس نہ بیٹھوں نہ کھانا کھاؤں نہ پانی پیوں نہ ان کے ساتھ نکاح کرو *مسند امام اعظم صفحہ 23* خلاصہ ہرگز ان لوگوں سے امداد نہ لی جائے (فتاوی بحر العلوم جلد دوم صفحہ 226 ) میں ہے وہابیوں دیوبندیوں سے چندہ مانگنا نہیں چاہے ازخود دے تو تو مسجد میں لگانا نہیں چاہے! (فتاوی فقہ ملت جلد دوم صفحہ 170 ) میں ہے جماعت اسلامی دیوبندی وہابی اور شیعہ وغیرہ ہم مرتدین گمراہ گمراہ گر ہیں لہٰذا ان سے چندہ لینا جائز نہیں ان سے چندہ لینا فتنے کا باعث ہے اس لئے کہ جو لوگ ان سے روپیہ لیں گے وہ ان سے میل جول رکھیں گے سلام کلام کریں گے ان کی تعظیم کریں گے اپنے تمام تقریبات میں انھیں شریک کریں گے اور یہ خود ان کے یہاں شرکت کریں گے اور یہ سب حرام ہے حدیث میں ہے بدمذہبوں سے دور رہو اور انھیں اپنے سے دور رکھو کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تمھیں گمراہ کر دیں اور فتنہ میں مبتلا کر دیں (صحیح مسلم )
واللہ اعلم و رسولہ
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تاریخ 20 مئی بروز جمعہ 2022
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں