امام کے نذرانہ کا مسجد میں اعلان کرنا کیسا

السلامُ علیکم و رحمت اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کے امام صاحب کے لئے مسجد میں اعلان کرنا کے امام صاحب نے رمضان میں تراویح پڑھائی ہے اب ہمیں بھی امام صاحب کو دینا چاہیے سب سے گزارش ہے کہ امام صاحب کے لئے جھولی گھمائی جائیگی تو آپ حضرات کُچھ عطا فرمائے

اعلان کرنا اور جھولی گھمانہ  کیسا ہے؟



والسلام: السائل عبداللہ
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ 
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 
مسجد میں خو کے لئے اعلان کرنا منع ہے مگر یہاں دوسرے لوگ اعلان کرتے ہیں اس لئے جائز ہے مگر یہ نہ کہا جائے تراویح کا حدیہ دو کیونکہ عبادت پر اجرت حرام ہے دینی خدمات کرنے والوں کے لئے وظیفہ فقہاء متاخرین کے دور سے ہوا جیسا کہ فتاوی فقہ ملت جلد دوم صفحہ 230 میں ہے جب دینی کاموں میں لوگوں نے سستی کی ورنہ متقدمین کا مسلک یہی تھا کہ اطاعت و عبادت پر اجرت لینا حرام ہے مگر جب متاخرین نے دیکھا کہ دین کے کاموں میں سستی پیدا ہو گئی ہے اور اگر اس اجارہ کی ساری صورتوں کو ناجائز کہا جائے تو دین کے بہت سے کاموں میں خلل واقع ہوگا تو تعلیم قرآن و فقہ اور اذان و امامت پر اجارہ جائز ہے  (کا فتوی دیا )  خلاصہ کلام جب اعلان کرے تو صرف ہدیہ، یا نذرانہ کہے تراویح کا حدیہ نہ کہے جو فقہاء متاخرین نے اجازت دی ہے اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ عبادت کا اجارہ ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ جو امام نماز پڑھانے کے لئے مقرر ہے اس وقت کا اجارہ ہے  اور ہمارے زمانہ میں اماموں کی حالت تشویشناک ہے مسلمانوں کو چاہے کہ امام پر خرچ کرنے میں اسے دینے میں بخلی سے کام نہ لے دل کھول کر امام کو ہدیہ دیا جائے تاکہ وہ بے فکر ہو کر دین کی صحیح طریقے سے خدمت کر سکے واللہ اعلم و رسولہ 
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی 
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 
تاریخ 6 مئی بروز جمعہ 2022

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598