کافر سے سود لینا کیسا

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ ایک عالمِ دین جو  عوام الناس کو تقریر میں نصیحت بھی کرتا ہے اور حدیثِ وغیرہ بھی سناتا ہے لیکن انھیں کا بیٹا غیر مسلم سے سود پر روپیہ لین دَین کرتا ہے ایسے عالم کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے
  سائل محمد علی سانواں
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ و برکاتہ 
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 
صورت مسئولہ میں سود تو ہر حال میں حرام ہے چاہے کفار سے ہو 
اللہ تعالٰی فرماتا   يَمۡحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَيُرۡبِى الصَّدَقٰتِ‌ؕ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِيۡمٍ (سورتہ 2 آیت 276)

ترجمہ:
خدا سود کو نابود (یعنی بےبرکت) کرتا اور خیرات (کی برکت) کو بڑھاتا ہے اور خدا کسی ناشکرے گنہگار کو دوست نہیں رکھتا!  
يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَذَرُوۡا مَا بَقِىَ مِنَ الرِّبٰٓوا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ (سورتہ 2آیت 278)

ترجمہ:
مومنو! خدا سے ڈرو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو جتنا سود باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو
سود کی حرمت قطعی ہے یہ کسی حال میں حلال نہیں البتہ ہندوستان کے کفار حربی ہے یہاں کے کفار سے عقد فاسد سے ملے وہ جائز ہے ہدایہ میں ہے احناف کے نزدیک دارالحرب میں مسلمان و کافر حربی کے درمیان سود ہوگا  (یعنی زیادتی میں جو لے گا وہ سود نہیں اور اسے سود سمجھ کر نہ لے بلکہ نفع سمجھ کر لے ) جبکہ احناف میں سے امام ابو یوسف رحمت اللہ علیہ، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ، اور امام مالک اور امام احمد علیہ الرحمۃ کے نزدیک دارالحرب میں بھی سود ثابت ہوگا  (فیوضات رضویہ تشریحات ہدایہ جلد 10 صفحہ 364 ) ایسا ہی شرح قدوری توضیح مذاہب العربیہ جلد اول صفحہ 604 ) میں ہے خلاصہ کلام فی زمانہ مسلمانوں نے دنیا کے مال کو حاصل کرنے کے لئے اس حکم شرع کا غلط استعمال کیا جاتا ہے یعنی کسی غریب مسلمان کو قرض کی ضرورت ہوتی ہے مگر یہ دنیا کے بھیڑیے ان غریبوں کو کوئی قرض نہیں دیتا بچارے مجبور ہو کر ان سے قرض لینے کے لئے کسی غیر مسلم کو بچ میں رکھتے ہیں تب جا کے انھیں قرض ملتا ہے لہٰذا حالات زمانہ پر نظر رکھے تو یہ قرض کے بدلے میں زیادہ لیا جاتا ہے وہ ظاہر تو غیر مسلم سے ہے مگر حقیقت میں مسلمان سے لیا جاتا ہے لہٰذا فقیر قول امام ابو یوسف رحمت اللہ علیہ پر یہ حکم دیتا ہے کہ غیر مسلم سے بھی زیادتی جائز نہیں مذکورہ عالم صاحب اگر واقعی عالم ہے تو انھیں حالات زمانہ سے واقف ہونا چاہیے کہ آپ کے دلارے جو کام کر رہے ہیں وہ درست نہیں ہے عوام کو دین سکھانے سے پہلے اپنے گھر کی بھی خبر لے اللہ تعالٰی فرماتا ہے   يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ وَاَهۡلِيۡكُمۡ نَارًا وَّقُوۡدُهَا النَّاسُ وَالۡحِجَارَةُ عَلَيۡهَا مَلٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعۡصُوۡنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمۡ وَيَفۡعَلُوۡنَ مَا يُؤۡمَرُوۡنَ ۞(سورتہ 66 آیت 6)

ترجمہ:
مومنو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل عیال کو آتش (جہنم) سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اور جس پر تند خو اور سخت مزاج فرشتے (مقرر) ہیں جو ارشاد خدا ان کو فرماتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم ان کو ملتا ہے اسے بجا لاتے ہیں!  
واللہ اعلم و رسولہ 
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی 
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 
تاریخ 18 مئی 2022 بروز بدھ

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598