نکاح کا ہدایہ

کیا فرماتے ہے مفتیان کرام مسئلہ ذیل میں کہ جو قاضی نکاح پڑھائے ان قاضی صاحب کا نکاح پڑھانے کا ہدیہ شریعت کی روشنی میں کتنا ہوتا ہے جواب عنایت فرمائے سائل مولانا یسف اکبری انجھار کچھ گجرات 

الجواب وباللہ توفیق  نکاح پڑھانے کا ہدیہ  اگر لڑکی باکرہ ہے تو این دینار اور اگر ثیبہ ہے تو ادھا دینار 

فتاوی ہندیہ جلد پنجم صفہ ۱۴۵) میں ہے اگر باکرہ  کا نکاح کرےتو ایک دینار اور اگر ثیبہ ہو تو آدھا دینار لے اور یہ (قاضی) کو حلال ہے ایسا ہی مشائخ نے ذکر کیا ہے ۔۔۔۔۔ دینار  سونے کا ہوتا ہے ہے اور ایک دینار کا موجودہ وزن ۴ گرام ۳۷۴ ملی گرام ہوگا اور آج کے بھاوں سے ایک دینار کی قیمت ۲۱۸۷۰ اکیس ہزار آٹ سو ستر روپیہ بنتی ہے لہازا باکرہ کے نکاح پڑھانے کا ہدیہ (۲۱۸۷۰) روپیہ ہوتا ہے اور ثیبہ کا نکاح پڑھانے کا ہدیہ )(۱۰۹۳۵) دس ہزار نو سو پینتیس روپیہ ہوگا  اس سے کم رقم پر قاضی صاحب نکاح پڑھاتے ہے تو یہ ان کا مسلمانوں پر کرم ہے حالانکہ یہ فتوی مسلمان دیکھ کر تعجب کرے گے لیکن حقیقت یہ ہی ہے کہ تم لاکھوں روپیہ نکاح میں خرچ کرتے ہو تو تمہیں کچھ نہیں ہوتا مگر مولانا کا یہ ہدیہ دینے میں تمہیں دل کا دورہ کیوں پڑ جاتا ہے شادی ایک خوشی کا موقعہ ہے تو اپنے امام کو زیادہ نہیں تو کم سے کم اس کا حق جو فقہاء کرام نے مقرر کیا ہے وہ تو دو اس میں تمھں کیوں تکلیف ہو رہی ہے اور اگر تکلیف ہوتی ہے تو پھر خود ہی نکاح پڑھ لو خود ہی جنازہ بھی پڑھ لینا قاضی کو نہ بلانا تو یہ ہدیہ بچ جائے گا اللہ مسلمانوں کو عالم کے حق کو پہچاننے کی توفیق عطا فرمائے 

کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی 

تاریخ ۲۹ مئی بروز اتوار ۲۰۲۲

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598