گروپ میں سلام کا جواب سب پر واجب نہیں

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل میں کہ آج کل سوشل میڈیا کا زمانہ ہے گروپ میں کوئی ایک بندہ سلام لکھے تو کیا تمام ممبران کو جواب دینا واجب ہے یا اس گروپ میں سے کوئی ایک ممبر جواب دے دیں تو کافی ہوگا اور اگر کافی ہوگا تو جو شخص ایک بار گروپ میں سلام کا جواب ہو چکا پھر بھی کوئی جواب دے تو کیا حکم ہوگا؟  سائل روشن خیال بوڈاد گجرات 
 *الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق* 
مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں 
  ایک شخص مجلس میں   آیا اور اس نے سلام کیا اہلِ مجلس پر جواب دینا واجب ہے اور دوبارہ پھر سلام کیا توجواب دینا واجب نہیں  ۔ مجلس میں   آکر کسی نے السلام علیک کہا یعنی صیغہ واحد بولا اور کسی ایک شخص نے جواب دے دیا تو جواب ہوگیا خاص اس کو جواب دینا واجب نہیں   جس کی طرف اس نے اشارہ کیا ہے۔ ہاں   اگر اس نے کسی شخص کا نام لے کر سلام کیا کہ فلاں   صاحب السلام علیک تو خاص اس شخص کو جواب دینا ہوگا، دوسرے کا جواب اس کے جواب کے قائم مقام نہیں   ہوگا۔ (بہار شریعت باب سلام صفحہ 463 ) 
 *معلوم ہوا*  گروپ میں کسی ایک ممبر نے جواب دے دیا تو اب دوسرے کو جواب دینے کی حاجت نہیں اگر کوئی پھر سے جواب دیتا ہے تو یہ اس کی جہالت ہے واللہ اعلم و رسولہ 
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی 
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 
تاریخ 25 مئی بروز بدھ 2022

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598