پردہ کا شرعی حکم

کن اعضا کا پردہ ضروری ہے:

پردہ کا معنی: ڈھانپنا، چھپانا ہے۔ مرد کو ناف کے نیچے سے لے کر گھٹنوں سمیت چھپانا لازمی ہے، جس میں ناف شامل نہیں، عورت کو دونوں ہتھیلیوں، دونوں پاؤں کے تلوؤں،پاؤں اور ہاتھوں کی پشت اور منہ کی ٹکلی کے علاوہ سارا جسم چھپانا ضروری ہے۔ (الدرالمختار، کتاب الصلوۃ، ج۱، ص۶۵)

حکم شرعی:

آج کل یہ بات سماعت کے دروازے پر بار بار دستک دیتی ہے کہ پردہ تو صرف دل کا ہوتا ہے، جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس جملے میں قرآن پاک کی اس واضح آیت کے انکار کا پہلو موجود ہے، جس میں ظاہری جسم کو چھپانے کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم کے پارہ22، سورۃ احزاب، آیت33 میں ارشاد فرماتا ہے: اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی۔

بے حیائی کے حیا سوز سمندر کی موجیں ٹھاٹیں مارتی ہوئی بے لگام ہو چکی ہیں اور لوگ اپنی ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کو خوب سجا سنوار کر کار کی فرنٹ سیٹ پر اور بائیک پر پیچھے بٹھاکر سفر کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں جبکہ ہمارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشاد فرما تے ہیں: تین شخص جنت میں نہ جائیں گے ماں باپ کا نافرمان اوردیوث اور مردانی وضع کی عورت۔(المستدرک للحاکم، ج۱، ص۷۲)

حضرت علامہ علاؤالدین حصکفی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ در مختار میں دیوث کی تعریف یوں کرتے ہیں : دیُّوث وہ شخص ہوتا ہے جو اپنی بیوی یا کسی محرم پر غیرت نہ کھائے۔ (رد المحتارعلی الدرالمختار،کتاب الحدود،ج۶،ص۱۱۳)

اگرشوہر واقعی دیکھتا اور اس پر راضی ہوتا ہے یا بقدرِ قدرت منع نہیں کرتا تو دیوث ہے اور دیوث پر جنت حرام ہے، نیز اقارب فریقین جو منع نہیں کرتے شریک گناہ و مستحق عذاب ہیں، جیسا کہ رب تعالی کا فرمان ہے: وہ ان بدکرداروں کو برائی سے منع نہ کرتے تھے البتہ جو وہ کرتے تھے بہت برا ہے۔(پارہ6، مائدہ، آیت79)۔ (فتاوٰی رضویہ)
شریعتِ مطہرہ نے مَردوں اور عورتوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم فرمایا۔ اللہ عز جلالہ قرآنِ عظیم میں فرماتا ہے : ( قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْؕ-ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ(۳۰) وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ۪- )  ترجَمۂ کنزُالایمان : مسلمان مَردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ، یہ ان کے لئے بہت ستھرا ہے۔ بیشک اللہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے۔ اور مسلمان عورتوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں۔ (پ18 ، النور : 30 ، 31)  (اس )

السنن الکبریٰ للبیہقی ، مراسیل ابی داؤد اور شعب الايمان میں ہے : عن الحسن ، قال : وبلغني ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : “ لعن الله الناظر والمنظور اليه “ یعنی حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ نبیِّ کریم  صلَّی اللہ علیہ وسلَّم  نے فرمایا : بدنگاہی کرنے والے اور کروانے والے پراللہ عَزَّوَجَلَّکی لعنت ہے۔ (شعب الايمان ،  6 / 162 ، حدیث : 7788)

امامِ اہلِ سنّت اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان  رحمۃُ اللہِ علیہ  تحریر فرماتے ہیں : “ بے پردہ بایں معنی کہ جن اعضاء کا چھپانا فرض ہے ان میں سے کچھ کھلا ہو جیسے سر کے بالوں کا کچھ حصہ یا گلے یا  کلائی یا پیٹ یا پنڈلی کا کوئی جز تو اس طور پر تو عورت کو غیر محرم کے سامنے جانا مطلقاً حرام ہے خواہ وہ پیر ہو یا  عالم۔ یا عامی جوان ہو ، یا بوڑھا۔ (فتاویٰ رضویہ ، 22 / 240)

امامِ اہلِ سنّت مجدِّدِ دین و ملت امام احمدرضا خان  علیہ الرَّحمہ  فرماتے ہیں : لڑکیوں کا ۔ ۔ ۔ اجنبی نوجوان لڑکوں کے سامنے بےپردہ رہنا بھی حرام۔ (ملخصاً فتاویٰ رضویہ ، 23 / 690)

بلکہ فی زمانہ بخوفِ فتنہ عورت کا اجنبی مردکے سامنے اپنا چہرہ کھولنا بھی منع ہے چنانچہ علّامہ علاؤ الدین حصکفی  رحمۃُ اللہِ علیہ  لکھتے ہیں : “ تمنع المراۃ الشابۃ من کشف الوجہ بین رجال لخوف الفتنۃ “ ملتقطاً ترجمہ : فتنہ کے خوف کی وجہ سے جوان عورت کا مَردوں کے درمیان چہرہ کھولنا منع ہے۔ (درمختار ، 1 / 
406)
تبیان القرآن
مفسر: مولانا غلام رسول سعیدی
فرماتے ہے  

سورۃ نمبر 24 النور
آیت نمبر 31

تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور آپ مسلمان عورتوں سے کہیے کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچے رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زیبائش کو ظاہر نہ کریں مگر جو خود ظاہر ہو اور اپنے دوپٹوں کو اپنے گریبانوں پر ڈالے رکھیں، اور اپنی زیبائش کو صرف اپنے شوہروں پر ظاہر کریں یا اپنے باپ دادا یا اپنے شوہروں کے باپ دادا پر اپنے بیٹوں یا اپنے شوہروں کے بیٹوں پر یا اپنے بھائیوں پر یا اپنے بھتیجوں پر یا اپنے بھانجوں پر یا اپنی خواتین یا اپنی مملوکہ باندیوں نوکرانیوں پر یا ان نوکروں پر جن کو عورتوں کی شہوت نہ ہو یا ان لڑکوں پر جو عورتوں کی شرم والی باتوں پر مطلع نہ ہوں اور اپنے پائوں سے اس طرح نہ چلیں جس سے ان کے پائوں کی وہ زینت ظاہر ہوجائے جس کو وہ چھپائے رکھتی ہیں، اور اے مسلمانو تم سب اللہ کی طرف توبہ کرو تاکہ تم فلاح پائو ۔ (النور : ٣١)
عورتوں کو نگاہ نیچی رکھنے کے متعلق احادیث 
اس سورت کو اللہ تعالیٰ نے زنا کی حرمت اور ممانعت سے شروع فرمایا ہے اور زنا کا مقدمہ یہ ہے مرد اجنبی عورت کی طرف دیکھے اور عورت مرد کی طرف دیکھے اس سے پہلی آیت میں مردوں کی طرف دیکھنے سے منع فرمایا ہے اور اس آیت میں عورتوں کو اجنبی مردوں کی طرف دیکھنے سے منع فرمایا ہے اس ممانعت کے سلسلہ میں حسب ذیل احادیث ہیں :
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ محترمہ حضرت ام المومنین ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ وہ اور آپ کی دوسری زوجہ حضرت میمونہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں کہ حضرت ابن ام مکتوم (رض) آپ کے پاس آئے یہ اس وقت کی بات ہے جب ہمیں حجاب میں رہنے کا حکم دیا گیا تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم دونوں اس سے حجاب میں چلی جائو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا یہ نابینا نہیں ہے یہ تو ہم کو نہیں دیکھ سکے گا تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم دونوں بھی نابینا ہو، کیا تم اس کو نہیں دیکھ رہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٧٧٨، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤١١٢، مسند احمد ج ٦ ص ٢٩٦، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٦٩٢٢، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٥٥٧٥، المعجم الکبیر ج ٢٣، رقم الحدیث : ٩٥٦۔ ٦٧٨، سنن بیہقی ج ٧ ص ٩١)
اس حدیث کے بظاہر معارض اور خلاف یہ حدیث ہے :
حضرت فاطمہ بنت قیس (رض) بیان کرتی ہیں کہ حضرت عمرو بن حفص نے ان کو طلاق بائن دے دی اور وہ غائب تھے، پھر انہوں نے اپنے وکیل کے ہاتھ کچھ جو بھیجے وہ اس وکیل پر ناراض ہوئیں، اس وکیل نے کہا اللہ کی قسم ہم پر تمہاری کوئی چیز واجب نہیں ہے، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو حضرت فاطمہ بنت قیس نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے حضرت فاطمہ بنت قیس سے فرمایا اس پر تمہارا نفقہ واجب نہیں ہے، پھر آپ نے ان کو حضرت ام شریک کے گھر عدت گزارنے کا حکم دیا، پھر آپ نے فرمایا وہ ایسی عورت ہے کہ اس کے پاس میرے اصحاب کا جمگھٹا لگا رہتا ہے تم ابن ام مکتوم کے پاس عدت گزارو، وہ نابینا شخص ہے تم اپنے کپڑے رکھ سکو گی اور جب تمہاری عدت پوری ہوجائے تو مجھے خبر دینا، حضرت فاطمہ بن قیس نے کہا جب میری عدت پوری ہوگئی تو میں نے آپ سے ذکر کیا کہ حضرت معاذ بن ابی سفیان اور حضرت ابوجہم دونوں نے مجھے نکاح کا پیغام دیا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا رہے ابو جہم تو وہ کندھے سے اپنی لاٹھی اتارتے ہی نہیں اور رہے معاویہ تو وہ مفکس ہیں ان کے پاس مال نہیں ہے تم اسامہ بن زید سے نکاح کرلو، تو میں نے ان کو ناپسند کیا (کیونکہ یہ آزاد تھیں اور وہ غلام زادے تھے) آپ نے فرمایا تم اسامہ سے نکاح کرلو میں نے ان سے نکاح کرلیا، تو اللہ نے اس نکاح میں خیر رکھ دی اور مجھ پر رشک کیا جاتا تھا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٤٨٠، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢٢٨٤، سنن النسائی رقم الحدیث : ٣٥٤٦، السنن الکبریٰ رقم الحدیث : ٥٣٥٢ )
صحابہ کرام (رض) حضرت ام شریک (رض) کی زیارت کرتے تھے اور ان کی نیکی کی وجہ سے بہ کثرت ان کے پاش آتے جاتے تھے اس لئے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ رائے تھی کہ اگر حضرت فاطمہ بنت قیس نے ان کے گھر عدات گزاری تو ان کو حرج ہوگا کیونکہ ان کو آنے جانے والوں سے پردہ کرنے میں مشکل ہوگی اس لئے ان کو یہ مشورہ دیا کہ وہ حضرت ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزاریں کیونکہ ایک تو وہ ان کو دیکھ نہیں سکیں گے دوسرے ان کے گھر آنے جانے والے نہیں ہیں، اس سے بعض لوگوں نے یہ استدلال کیا کہ عورت کا اجنبی مرد کی طرف دیکھنا جائز ہے لیکن یہ استدلال فاسد ہے کیونکہ جس طرح قرآن مجید نے مردوں کو اجنبی عورتوں کی طرف دیکھنے سے منع کیا ہے اسی طرح عورتوں کو بھی اجنبی مردوں کی طرف دیکھنے سے منع کیا ہے اور حضرت ام سلمہ کی حدیث میں بھی ہے کہ آپ نے حضرت ابن مکتوم کے آنے پر فرمایا تھا تم دونوں تو اندھی ہو، اور حضرت فاطمہ بنت قیس کی حدیث کا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت فاطمہ بنت قیس کو ابن ام مکتوم کی طرف دیکھنے کی جازت نہیں دی ہے بلکہ اس میں یہ فرمایا ہے کہ وہ ان کے گھر میں اپنی طرف دیگر مردوں کے دیکھنے سے مامون رہیں گی اور قرآن مجید کے حکم کے مطابق ان کو وہاں بھی حضرت ابن ام مکتوم کے سامنے نظریں نیچی رکھنے کا حکم ہوگا البتہ حضرت ام شریک کی بہ نسبت ان کے گھر میں ان کے لئے عدت گزارنا آسان ہوگا۔ (شرح مسلم مع مسلم ج ٦ ص 4026 مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، 1417 ھ)
اس آیت میں فرمایا ہے : اور وہ اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں، زینت دو قسم کی ہے، ایک ظاہری زینت ہے وہ عورتوں کا لباس ہے اور ایک مخفی زینت ہے وہ عورتوں کے زیورات ہیں۔ (جامع البیان رقم الحدیث :19644)
سوا اس کے جو خود ظاہر ہو، سعید بن جبیر اور عطاء نے کہا اس سے مراد چہرہ اور ہتھیلیاں ہیں، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : زینت ظاہرہ چہرہ اور آنکھ کا سرمہ ہے اور ہاتھوں کی مہندی ہے اور انگوٹھی ہے یہ وہ چیزیں ہیں جو گھر میں آنے جانے والوں پر ظاہر ہوجاتی ہیں۔ (جامع البیان رقم الحدیث :19655، 19653، 19652)
حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ہجرت کرنے والی خواتین پر رحم فرمائے جب یہ آیت نازل ہوئی : ولیضرمن بخمرھن علی جیوبھن تو انہوں نے اپنی چادروں کو پھاڑ کردو ٹکڑے کئے اور ان سے اپنے سنیوں کو ڈھانپ لیا۔ (جامع البیان رقم الحدیث :19665)
حضرت ابن عباس (رض) نے کہا اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور اپنی زیبائش صرف اپنے شوہروں پر ظاہر کریں عورتوں کے ان محارم وغیرہ کا ذکر کیا ہے جن پر زیبائش کو ظاہر کیا جاسکتا ہے، اس زیبائش سے مراد زیورات وغیرہ ہیں اور رہے عورتوں کے بال تو ان کو ان کے شوہروں کے سوا اور کسی کے سامنے ظاہر کرنا جائز نہیں ہے۔ (جامع البیان رقم الحدیث :19669)
جن محارم وغیرہ کے سامنے اپنی زیبائش کو ظاہر کرسکتی ہے اس میں اپنی خواتین اور اپنی مملوکہ باندیوں کا بھی ذکر جن محارم وغیرہ کے سامنے عورت اپنی زیبائش کو ظاہر کرسکتی ہے اس میں اپنی خواتین اور اپنی مملوکہ باندیوں کا بھی ذکر فرمایا ہے، اس کا معنی یہ ہے کہ غیر مسلم عورتوں کے سامنے عورت کے لئے اپنی زیبائش کو ظاہر کرنا جائز ہ۔
ابن جریج نے کہا مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ اس سے مراد مسلم خواتین ہیں اور کسی مسلم خاتون کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی باطنی زینت کسی مشرکہ کو دکھائے سوائے اس صورت کے کہ وہ اس کی بانید ہو۔ (جامع البیان رقم الحدیث :19671)
علامہ ابوالحسن علی بن ابی بکر المرغینانی الحفی المتوفی 593 ھ لکھتے ہیں : آدمی اپنے محارم (جن عورتوں سے نکاح دائما حرام ہے) کے چہرہ، سر، سینہ، پنڈلی اور بازو کو دیکھ سکتا ہے۔ (ہدایہ اخرین، ص 461، مطبوعہ مکتبہ شرکت علمیہ، ملتان)
اور فرمایا اور اپنے ان نوکروں پر جن کو عورتوں کی شہوت نہ ہو : اس سے مراد ایسے لوگ ہیں جن کا مقصد صرف کھانا پینا ہو اور ان کو عورتوں کی بالکل خواہش نہ ہو اور جس نوکر یا خادم کو عورتوں کی طرف رغبت ہو اس کو گھروں میں عورتوں کے پاس نہ جانے دیا جائے۔ حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج کے پاس ایک مخنث آتا جاتا تھا اور گھر والوں کو یہ گمان تھا کہ اس کو عورتوں کی خواہش نہیں ہے، ایک دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے اور وہ آپ کی ازواج کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہ ایک عورت کی تعریف کر رہا تھا کہ وہ اتنی موٹی ہے کہ اس کے جسم پر سلوٹیں پڑتی ہیں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں یہ گمان نہیں کرتا کہ یہ ان تمام چیزوں کو سمجھتا ہے، یہ تمہارے پاس نہ آیا کرے، پھر ازواج مطہرات اس سے پردہ کرنے لگیں۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :2181، سنن ابودائود رقم الحدیث :4107 السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث :9247)
حضرت ابن عباس نے اس کی تفسیر میں فرمایا اس سے مراد مخنث ہے، ابن المنذر نے کلبی سے روایت کیا کہ اس سے مراد خصی اور عنین (نامرد) ہے۔ (الدرا المنثور ج ٦ ص 185، 184، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1414 ھ)
اس کے بعد فرمایا : اور اپنے پائوں سے اس طرح نہ چلیں جس سے ان کے پائوں کی وہ زینت ظاہر ہوجائے جس کو وہ چھپائے رکھتی ہیں۔
یعنی کوئی عورت فرش پر زور زور سے پیر مار کر اس طرح نہ چلے کہ اس سے اس کی پازیب کی آواز گھر سے باہر سنائی دے۔ جس عورت نے خوشی سے یا اتراتے ہوئے ایسا کیا تو اس کا یہ عمل مکروہ ہے او اگر اس نے مردوں کو دکھانے، سنانے اور ان کو لبھانے کے لئے ایسا کیا تو اس کا عمل مذموم اور حرام ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598