مشت زنی کا حکم
مشت زنی کرنے والا ؟😚
May 28, 2022
سوال مشت زنی کرنے والے کا کیا حکم ہے
سائل عمرو کوڑا گجرات
الجواب
فعل ناپاک حرام وناجائز ہے اللہ جل وعلا نے اس حاجت کے پورا کرنے کو صرف زوجہ و کنیز شرعی بتائی ہیں اور صاف ارشاد فرمادیا ہے کہ :فمن ابتغی وراء ذلک فاولئک ھم العدون ۱؎۔
جو اس کے سو ااور کوئی طریقہ ڈھونڈھے توو ہی لوگ ہیں حد سے بڑھنے والے۔
(۱؎ القرآن الکریم ۷۰ /۳۱)
حدیث میں ہے :ناکح الید ملعون ۲؎
جلق لگانے والے پر اللہ تعالی کی لعنت ہے۔
(۲؎ الحدیقہ الندیہ الصنف السابع من الاصناف التسعۃ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ /۴۹۱)(الاسرار المرفوعۃ فی اخبار الموضوعۃ حدیث نمبر ۱۰۲۲ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۲۵۷)
ہاں اگر کوئی شخص جوان تیز خواہش ہو کہ نہ زوجہ رکھتاہو نہ شرعی کنیز اور جوش شہوت سخت مجبور کرے اوراس وقت کسی کام میں مشغول ہوجانے یا مردوں کے پاس جابیٹھنے سے بھی دل نہ بٹے غرض کسی طرح وہ جوش کم نہ ہو یہاں تک کہ یقین یاظن غالب ہوجائے کہ اس وقت اگر یہ فعل نہیں کرتا تو حرام میں گرفتار ہوجائے گا تو ایسی حالت میں زنا ولواطت سے بچنے کے لئے صرف بغرض تسکین شہوت نہ کہ بقصد تحصیل لذت و قضائے شہوت اگر یہ فعل واقع ہو تو امید کی جاتی ہےکہ اللہ تعالی مواخذہ نہ فرمائے گا۔ پھر اس کے ساتھ ہی واجب ہے کہ اگر قدرت رکھتا ہو فورا نکاح یا خریداری کنیز شرعی کی فکر کرے ورنہ سخت گنہ گار ومستحق لعنت ہوگا۔ یہ اجازت اس لئے نہ تھی کہ اس فعل ناپاک کی عادت ڈال لے اور بجائے طریقہ پسندیدہ خدا ورسول اسی پر قناعت کرے۔
طریقہ محمدیہ میں ہے :اما الاستمناء فحرام الا عند شروط ثلثۃ ان یکون عزب وبہ شبق وفرط شہوۃ (بحیث لو لم یفعل ذلک لحملتہ شدۃ الشہوۃ علی الزناء اواللواط والشرط الثالث ان یرید بہ تکسین الشہوۃ لاقضائھا ۱؎ اھ مزیدا من شرحھا الحدیقۃ الندیۃ۔
مشت زنی حرام ہے مگر تین شرائط کے ساتھ جواز کی گنجائش ہے : (۱) مجرد ہو اور غلبہ شہوت ہو (۲) شہوت اس قدر غالب ہو کہ بدکاری زناء یالونڈے بازی وغیرہ کا اندیشہ ہو (۳) تیسری شرط یہ ہے کہ اس سے محض تکسین شہوت مقصود ہو نہ کہ حصول لذت۔ طریقہ محمدیہ کی عبارت مکمل ہوگئی جس میں اس کی شرح حدیقہ ندیہ سے کچھ اضافہ بھی شامل ہے۔ (ت)
(۱؎ الطریقہ محمدیہ الصنف السابع من الاصناف التسعۃ الاستمناء بالید مکتبہ حنفیہ کوئٹہ ۲/ ۲۵۵)(الحدیقہ الندیہ الصنف السابع من الاصناف التسعۃ الاستمناء بالید مکتبہ حنفیہ کوئٹہ ۲/ ۴۹۱)
تنویر الابصار میں ہے :یکون (ای) واجبا عند التوقان ۲؎۔
غلبہ شہوت کے وقت نکاح کرنا واجب ہے۔ (ت)
(۲؎درمختارشرح تنویر الابصار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۸۵)
ردالمحتارمیں ہے :قلت وکذا فیما یظھر لو کان لایمکنہ منع نفسہ عن النظر المحرم او عن الاستمناء بالکف فیجب التزوج وان لم یخف الوقوع فی الزناء ۳؎ واﷲ تعالی اعلم۔
میں کہتاہوں اور اسی طرح کچھ ظاہر ہوتاہے کہ اگر حالت ایسی ہوکہ یہ اپنے آپ کو نظر حرام اور مشت زنی سے نہ روک سکے تو شادی کرنا واجب ہے۔ اگر چہ زناء میں مبتلا ہونے کا خطرہ نہ ہو۔ اللہ تعالی ہی بڑا عالم ہے۔ )(فتاوی رضویہ جلد 22 صفہ 198)
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: يَجِيءُ النَّاكِحُ يَدَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَدُهُ حُبْلَى
ترجمہ: انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں قیامت کے دن مشت زنی کرنے والا اس حال میں آئے گا کہ اس کا ہاتھ حاملہ ہوگا۔
{التاریخ الکبیر للبخاری (کما فی شعب الایمان: 7/330، حدیث نمبر: 5087)}
واللہ اعلم و رسولہ
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی
تاریخ 29 مئی بروز اتوار 2022
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں