قے ہونے سے روزہ

السلام علیکم حالت روزہ میں منھ بھر قے تو نہیں لیکن تھوڑی سی آئی اور روزہ دار حالت نماز میں تھا اسکو روکنے کی کوشش کی وہ واپس چلی گئی اور اسکا ذائقہ بھی حلق میں محسوس ہونے لگ گیا تو روزہ ٹوٹ گیا يا نہیں اور اگر ٹوٹ گیا تو کیا اب اسکو کھانے پینے کی اجازت ہوگی سائل ولی محمد اکبری اسپو ر ضلع ڈوگر پور راجستھان
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ 
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 
صورت مسئولہ میں اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا کیونکہ یہ اس کے عمل سے نہیں ہے( ردالمتار درمختار جلد سوم باب مفسد الصوم ) میں ہے ہر صورت میں یا تو وہ خود باہر نکلے گی لوٹے گی یا وہ لوٹا ئے گا اور ہر صورت میں اسے روزہ یاد نہیں ہوگا صحیح قول کے مطابق تمام صورتوں میں نہیں ٹوٹے گا مگر جب وہ قے کو واپس کرے یا قے کرنے کی کوشش کریں جبکہ روزے کے یاد ہوتے ہوئے منہ بھر کر ہو!  تنویر الابصار جلد سوم صفحہ 117 میں ہے کہ امام محمد رحمت اللہ علیہ کا قول صحیح ہے کہ اس کی جانب سے کوئی عمل پایا گیا اور اس کی جانب سے روزہ توڑنے کی صورت نہیں پائی گئی وہ نگلنا ہے یہی اس کا معنی ہے کیونکہ اس کے ساتھ غذا حاصل نہیں کی جاتی بلکہ نفس اس سے کراہت محسوس کرتا ہے!  فتاوی شامی جلد سوم صفحہ 119 میں ہے اگر قے منہ بھر کر نہ آئے اور وہ سب کو واپس لوٹائے یا بعض کو لوٹائے امام ابو یوسف رحمت اللہ علیہ کے نزدیک اس کا روزہ فاسد نہ ہوگا   ! 
خلاصہ کلام صورت مسئولہ میں اس کے بس میں نہیں تھا کہ وہ قے کو روک سکے کیونکہ وہ نماز میں تھا اس لئے جو کچھ حلق سے نیچے اترے اس سے روزہ فاسد نہیں ہوگا    قرآن مجید میں ہے اللہ تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا  (سورتہ البقرة آیت 185 ) 
واللہ اعلم و رسولہ 
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی 
تاریخ 2 مئی بروز پیر 2022

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598