تراویح کچھ رہ گئی؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
 معزز علماء کرام و مفتیان عظام کی بارگاہ میں سوال ہے 

 تراویح کی نماز امام صاحب پڑھا رہے ہیں بعد میں ایک شخص اے تراویح کی نماز دس  رکعت پڑھ چکے تھے جو بعد میں آئے تو عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد تراویح کی نماز میں شامل ہوئے جو  پیچھے دس رکعت نہیں پڑھ پائے تراویح کی نماز اور بیس رکعت جب امام صاحب پڑھا دیے تو جو  بعد میں آئے جو دس رکعت ہیں جماعت کے ساتھ نماز تراویح پڑھی اور دس رکعت باقی رہا اور وتر کی نماز الگ سے پڑھ کر کے چلے گئے اور دس رکعت چھوڑ دے اس کے لیے کیا حکم ہے

 فقیر محمد شمس تبریز 
کٹیہار 
بہار
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ 
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں اس نے دس رکعت تراویح کو ترک کر کے برا کیا حالانکہ حکم یہ تھا کہ جب دس رکعت پڑھنے کے بعد جماعت میں شامل ہوا تھا تو بعد میں دس رکعت تنہا پڑھنا چاہے!  مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے اگر کچھ رکعتیں اس کی باقی رہ گئی کہ امام وتر کو کھڑا ہو گیا تو امام کے ساتھ وتر پڑھ لے پھر باقی ادا کر لے جبکہ فرض جماعت سے پڑھے ہو اور اگر تراویح پوری پڑھ کر وتر تنہا پڑھے تو بھی جائز ہے  (بہار شریعت حصہ چہارم صفحہ 689 ) خلاصہ کلام تراویح جو،کہ دس رکعت نہیں پڑھی اور چلا گیا یہ برا کیا اب اس کی قضا نہیں مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر فوت ہو جائے تو ان کی قضا نہیں اور اگر قضا تنہا پڑھ لی تو تراویح نہیں بلکہ نفل مستحب ہے  (بہار شریعت حصہ چہارم صفحہ 689 ) واللہ اعلم و رسولہ 
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری 
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 
تاریخ 17 اپریل بروز اتوار 2022


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598