بغیر عذر کے جماعت ترک کرنا

*السلامُ علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید بظاھر مسلمان ہے اور مسجد سے لگاؤ بھی رکھتا ہے*
*لیکن نماز کی اہمیت اسکے دلوں میں نہیں ہے*
*کبھی من چاہا تو کسی نماز کی جماعت میں شامل ہوجاتا ہے* 
*ورنہ کبھی کبھی جماعت سے پہلے ہی نماز پڑھکے نکل جاتا ہےجبکہ کوئی بھی کام نہیں ہوتا*
*بالخصوص نمازِ فجر کے وقت مسجد میں موجود ہوتا ہے*
 *مگر جماعت میں شامل نہیں ہوتا ہے*
*پوچھنے پر کہتا ہے کہ مُجھے فُرصت نہیں ہوتی کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھوں جب کہ بظاھر جماعت کے وقت تنہا بیٹھا رہتا ہے جیسےہی جماعت ختم ہوتی ہے تب وہ بھی مسجد سے نکلتا ہے*
*لہذا آپ حضور والا سے گزارش ہے کہ مندرجہ والا حالات کے مطابق زید پر کیا شرعی حکم ہے* 
*قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں نوازش ہوگی*

*سائل :- فیضانِ آل رسول فاؤنڈیشن پھلتوڑاکھگڑیا بہار ہندوستان*
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ 
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 
جماعت واجب ہے بغیر عذر کے ترک کرنے والا فاسق معلن منافق ہیں
اپنے کو اس حالت میں  دیکھا کہ نماز سے پیچھے نہیں  رہتا، مگر کھلا منافق یا بیمار اور بیمار کی یہ حالت ہوتی کہ دو شخصوں  کے درمیان میں  چلا کر نماز کو لاتے اور فرماتے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہم کو سنن الہُدیٰ کی تعلیم فرمائی اور جس مسجد میں  اذان ہوتی ہے، اس میں  نماز پڑھنا سنن الہُدیٰ سے ہے‘‘، (1) اور ایک روایت میں  یوں  ہے، کہ ’’جسے یہ اچھا معلوم ہو کہ کل خدا سے مسلمان ہونے کی حالت میں  ملے، تو پانچوں نمازوں  پر محافظت کرے، جب ان کی اذان کہی جائے کہ اﷲ تعالیٰ نے تمھارے نبی کے لیے سنن الہُدیٰ مشروع فرمائی اور یہ سنن الہُدیٰ سے ہے اور اگر تم نے اپنے گھروں  میں  پڑھ لی جیسے یہ پیچھے رہ جانے والا اپنے گھرمیں  پڑھ لیا کرتا ہے، تو تم نے اپنے نبی کی سُنت چھوڑ دی اور اگر اپنے نبی کی سُنت چھوڑو گے، تو گمراہ ہو جاؤ گے۔‘‘  (2)   اور ابو داود کی روایت میں  ہے، ’’کافر ہو جاؤ گے‘‘  (3) اور جو شخص اچھی طرح طہارت کرے پھرمسجد کو جائے تو جو قدم چلتا ہے، ہر قدم کے بدلے اﷲ تعالیٰ نیکی لکھتا ہے اور درجہ بلند کرتا ہے اور گناہ مٹا دیتا ہے۔ حدیث میں منافق پر زیادہ گراں  نماز عشا و فجر ہے اور جانتے کہ اس میں  کیا ہے؟ تو گھسٹتے ہوئے آتے اور بیشک میں  نے قصد کیا کہ نماز قائم کرنے کا حکم دوں  پھر کسی کو امر فرماؤں  کہ لوگوں  کو نماز پڑھائے اور میں  اپنے ہمراہ کچھ لوگوں  کو جن کے پاس لکڑیوں  کے گٹھے ہوں  ان کے پاس لے کر جاؤں ، جو نماز میں  حاضر نہیں  ہوتے اور ان کے گھر اُن پر آگ سے جلا دوں۔‘‘  (1)  امام احمد نے انہیں  سے روایت کی، کہ فرماتے ہیں : ’’اگر گھروں  میں  عورتیں  اور بچے نہ ہوتے، تو نماز عشا قائم کرتا اور جوانوں  کو حکم دیتا کہ جو کچھ گھروں  میں  ہے، آگ سے جلا دیں ۔ (بہار شریعت باب جماعت ) 
خلاصہ کلام شخص مذکور ان احادیث پر بار بار غور کرے اور توبہ کرے اور جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کی پابندی کرے واللہ اعلم و رسولہ 
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری 
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن تاریخ 1 مئی بروز اتوار 2022

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598