دکان خالی کرنے کا روپیہ لینا حرام ہے
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسلے میں کہ زید کے دادا نے اپنی تین دکان کرایے پر بکر,خالد,اور عمرو کو ٣٥ سال پہلے دی تھی اور ماہانہ کرایہ دو سو روپیہ تہ ہوا تھا اس کے علاوہ اور تقریباً ٢٥ ہزار روپے ایڈوانس لیے تھے اب جب کہ زید اور اسکے بھائیوں نے بکر خالد,اور عمرو سے دکانیں کھالی کرنے کا کہا تو ان میں سے ایک نے دکان کھالی کرنے کا ٣٠ لاکھ , دوسرے نے ٣٠ لاکھ اور تیسرے نے ٢٤ لاکھ لیے اور ایسا ہر جگہ ہوتا ہے تو انکا اس طرح پیسے لینا جایز ہے؟
اور کیا اگر زید صرف ٢٥ ہزار جو اسکے دادا نے لیے تھے وہ واپس کردے یہ کافی ہے یا زیادہ دینا پڑیگا؟
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق جو دکانیں کراہے پر تھی وہ کرایدار کی ملک نہیں ہے مالک جب چاہے اسے خالی کروا سکتا ہے خالی کرنے کے بدلے میں جو روپیہ لیا گیا وہ حرام ہے جب دوکان تمھاری ملک ہی نہیں تو روپیہ کس بات کا لیا نا جائز روپیہ لیا ہے
قرآن میں اللہ تعالی نے فرمایا :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَأْكُلُواْ أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلاَّ أَن تَكُونَ تِجَارَةً عَن تَرَاضٍ مِّنكُمْ
(النِّسَآء، 4 : 29)
اے ایمان والو! تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق طریقے سے نہ کھاؤ سوائے اس کے کہ تمہاری باہمی رضا مندی سے کوئی تجارت ہو،
اللہ تعالی فرماتا ہے
وَلَا تَاۡكُلُوۡٓا اَمۡوَالَـكُمۡ بَيۡنَكُمۡ بِالۡبَاطِلِ وَتُدۡلُوۡا بِهَآ اِلَى الۡحُـکَّامِ لِتَاۡکُلُوۡا فَرِيۡقًا مِّنۡ اَمۡوَالِ النَّاسِ بِالۡاِثۡمِ وَاَنۡـتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ۞
ترجمہ:
اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ اس کو (رشوتاً ) حاکموں کے پاس پہنچاؤ تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ ناجائز طور پر نہ کھا جاؤ اور (اسے) تم جانتے بھی ہو
تفسیر صراط الجنان میں ہے
مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ ناجائز فائدہ کے لیے کسی پر مقدمہ بنانا اور اس کو حکام تک لے جانا ناجائز و حرام ہے۔ اسی طرح اپنے فائدہ کی غرض سے دوسرے کو ضرر پہنچانے کے لیے حکام پر اثر ڈالنا، رشوتیں دینا حرام ہے ۔حکام تک رسائی رکھنے والے لوگ اس آیت کے حکم کو پیش نظر رکھیں۔حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’وہ شخص ملعون ہے جو اپنے مسلمان بھائی کو نقصان پہنچائے یا اس کے ساتھ دھوکہ کرے۔(تاریخ بغداد، باب محمد، محمد بن احمد بن محمد بن جابر۔۔۔ الخ،۱ / ۳۶۰، رقم: ۲۶۲)
ناحق کسی کا مال کھانا ناجائز اور حرام ہے، ناحق مال کھانے والے پر قرآن وحدیث میں بہت سخت وعیدات وارد ہوئی ہیں، ایسے لوگ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں، بلکہ بعض کتبِ فقہ میں منقول ہے کہ ناحق مال کھانے والے سے ایک دانق (جو درہم کا چھٹا حصہ ہوتا ہے) کے بدلے میں اس کی سات سو مقبول نمازیں،حق دار کو دے دی جائیں گی، ظلم کوئی معمولی چیز نہیں ہے، ساری عبادتیں اس وقت ناکافی ہیں جب تک ظلم سے برات نہ ہو، ایک حدیثِ مبارک میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ رضوان اللہ علیہم سے دریافت کیا کہ: ”تم مفلس کس کو سمجھتے ہو؟ صحابہ رضوان اللہ علیہم نے عرض کیا کہ مفلس وہ ہے جس کے پاس درہم اور دینار نہ ہوں،اور مال واسبا ب نہ ہوں،تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ملفس وہ ہے جو قیامت کے دن آئے اوراس نے نمازیں بھی پڑھی ہوں، اور روزے بھی رکھے ہوں، اور زکات بھی دیتا رہا ہو، مگر اس کے ساتھ اس نے کسی کو گالی دی تھی، کسی پر تہمت لگائی تھی، کسی کا ناحق مال کھایا تھا، ناحق خون بہایا تھا، کسی کو مارا تھا، اب قیامت میں ایک اس کی یہ نیکی لے گیا اور دوسرا دوسری نیکی لے گیا،یہاں تک کہ اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں،لیکن پھر بھی حق دار بچ گئے ، تو پھر باقی حق داروں کے گناہ اس پر لاد دیے جائیں گے، یہاں تک کہ وہ گناہوں میں ڈوب کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا، یہ ہے حقیقی مفلس“۔ لہذا جس کا مال ناحق لیا ہے اس کو واپس کرنا ضروری ہے، اگر وہ انتقال کرجائے تو اس کے ورثاء کو دینا لازم (صحیح مسلم ) لہٰذا جو روپیہ لیا گیا ہے وہ تمام واپس کرنے کا حکم ہے اگر واپس نہیں کرتے تو قیامت کے دن یہ مال تمھیں جہنم میں لے جائے گا جس زندگی کو گزارنے کے لئے یہ مال لیا ہے یہ ہی مال تمھیں جہنم میں بھی پہنچائے گا یہ مال جسے توم اپنی اولاد کو کھیلا رہا ہے وہ تیرے کام نہیں آنے والا اللہ تعالٰی فرماتا ہے
يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّكُمۡ وَاخۡشَوۡا يَوۡمًا لَّا يَجۡزِىۡ وَالِدٌ عَنۡ وَّلَدِهٖ وَلَا مَوۡلُوۡدٌ هُوَ جَازٍ عَنۡ وَّالِدِهٖ شَيۡــئًا ؕ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ۖ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُمۡ بِاللّٰهِ الۡغَرُوۡرُ ۞
ترجمہ:
لوگوں اپنے پروردگار سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے اور نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکے بیشک خدا کا وعدہ سچا ہے پس دنیا کی زندگی تم کو دھوکے میں نہ ڈال دے اور نہ فریب دینے والا (شیطان) تمہیں خدا کے بارے میں کسی طرح کا فریب دے (سورتہ 31 آیت 33 ) لہٰذا شیطان نے جو دوسرے کا مال کھانے کے رنگین خواب جو دیکھائے ہے اس سے باز رہے اللہ تعالٰی فرماتا
اِنَّ الشَّيۡطٰنَ لَـكُمۡ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوۡهُ عَدُوًّا ؕ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰبِ السَّعِيۡرِؕ ۞ (35 آیت 6 )
ترجمہ:
شیطان تمہارا دشمن ہے تم بھی اسے دشمن ہی سمجھو وہ اپنے (پیروؤں کے) گروہ کو بلاتا ہے تاکہ وہ دوزخ والوں میں سے ہوں! ،،،،اور جو پچیس ہزار دیئے تھے وہ امانت ہے اس کو واپس دے
ناحق مال کو اپنا حق سمجھنا حرام ہے اگر حلال سمجھتا ہے تو یہ لوگ اسلام سے خارج ہے فتاوٰی رضویہ جلد 23 صفحہ 531 میں ہے اگر کسی محتاج پر حرام مال میں سے کچھ خیرات کیا اور ثواب کی امید رکھے تو کافر ہو جائے گا اگر فقیر و محتاج کو یہ بات معلوم ہو کہ وہ مال حرام دے رہا ہے اور اس کے باوجود وہ اسے دعا دے اور وہ آمین کہے تو دونوں کافر ہو جائیں گے! لہٰذا اللہ سے ڈرے اور جو روپیہ لیا ہے سب واپس کرے ورنہ جہنم کا عذاب بہت سخت ہے
واللہ اعلم و رسولہ
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تاریخ 28 اپریل بروز جمعرات 2022
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں