مضمون پر صدقہ فطرہ

السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسلے کے بارے میں کہ نابالغ  و پاگل پر صدقے فطر دینا کیسا ھے واجب یا اور کچھ
جواب سے نوازیں فقط واصل قادری
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ 
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 
مالک نصاب مردپر اپنی طرف سے ،اپنے چھوٹے بچوں کی طرف سے اور اگر کوئی مَجْنُون (یعنی پاگل )اولاد ہے (چاہے وہ پاگل اولاد بالغ ہی کیوں نہ ہو)تو اُس کی طرف سے بھی صَدَقَۂِ فِطْر واجب ہے،ہاں اگر وہ بچہ یا مَجْنُون خود صاحِب نصاب ہے تو پھراُ س کے مال میں سے فطرہ ادا کردے۔ (عالمگیری جلد اول صفحہ 442 ) واللہ اعلم و رسولہ 
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری 
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 
تاریخ 25 اپریل بروز پیر 2022

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598