مال حرام پر زکوۃ واجب نہیں
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
حضرت مفتی صاحب ایک سوال ھےکہ کسی مردکےپاس حرام کی کمائی کا نصاب ھےاس سےزکوۃ نکال سکتاھےیانھیں شریعت مطہرہ کی روشنی میں مع دلیل جواب تحریرفرماکرشکریہ کاموقع دیں
جزاکم اللہ تعالی فی الدارین
مولوی یعقوب ازراجستھان
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
جس کا مال حرام ہے اس پر زکوۃ واجب نہیں وہ حقیقتاً اس کا مالک ہی نہیں ہے اس پر لازم ہے کہ وہ مال جس سے لیا ہے اس کو واپس کرے اور وہ نہ ہو تو اس کے ورثہ کو لوٹا دے اور اگر معلوم نہ ہو کہ وہ مال کس سے لیا تھا تو کل مال غرباء پر صدقہ کرے (فتاوی فقہ ملت جلد اول صفحہ 314 ) امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سود رشوت اور اسی قسم کے حرام و خبیث مال پر زکوۃ نہیں جن جن سے لیا ہے اگر وہ لوگ معلوم ہے تو انھیں واپس دینا واجب ہے اور اگر معلوم نہ ہو تو کل تصدوق کرنا واجب ہے (فتاوی رضویہ جلد ہشتم صفحہ 236 )
واللہ اعلم و رسولہ
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تاریخ 24 اپریل بروز اتوار 2022
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں