یاسین نام رکھنا کیسا؟

سوال کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ کسی شخص کا نام یاسین رکھنا کیسا؟ سائل عبداللہ حیدر گجرات 
یٰسین ‘‘ نام رکھنے کا شرعی حکم :

اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ’’یٰسین ‘‘ نام رکھنے کا جو شرعی حکم بیان فرمایا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی کا یٰسین ‘‘ اورطٰہٰ نام رکھنا منع ہے کیونکہ بقولِ بعض علماء ممکن ہے کہ یہ دونوں  اللہ تعالیٰ کے ایسے نام ہیں  جن کے معنی معلوم نہیں ، کیاعجب کہ ان کے وہ معنی ہوں  جوغیر ِخدا پر صادق نہ آسکیں ، اس لئے ان سے بچنا لازم ہے اور اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے بقول یہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ایسے نام ہیں  جن کے معنی سے واقف نہیں ، ہوسکتاہے ان کاکوئی ایسامعنی ہو جو حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے لئے خاص ہو اور آپ کے سواکسی دوسرے کے لئے اس کا استعمال درست نہ ہو۔ اِن ناموں  کی اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی بیان کردہ رائے زیادہ مناسب ہے کیونکہ ان ناموں  کا حضورِاقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے لئے مُقَدّس نام کے طور پر ہونا زیادہ ظاہر اور مشہورہے۔( فتاوی رضویہ، رسالہ: النور والضیاء فی احکام بعض الاسماء، ۲۴ / ۶۸۰-۶۸۱،ملخصاً)

نوٹ:جن حضرات کا نام ’’یٰسین‘‘ ہے وہ خود کو’’ غلام یٰسین‘‘ لکھیں  اور بتائیں  اور دوسروں  کو چاہئے کہ اسے ’’غلام یٰسین‘‘ کہہ کر بلائیں ۔


تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598