مسجد میں فون سے بچے پڑھانا
السلام و علیکم
سوال : اعتکاف کی حالت میں موبائل کے ذریعے لڑکیوں یا لڑکو کو ٹوشن پڑھنا کیسا ہے ؟
عبدااسبحان
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
مسجد میں انٹرنیٹ کا استعمال کرنا جائز نہیں اس لئے کہ کوئی بھی ایپلیکیشن اوپن کرتے اشتہار ،فحش ،مواد، دیکھتا ہے جس سے مسجد کی بے حرمتی ہوتی ہے اور کا ادب و احترام واجب پھر سائل کا اگر کوئی کاروبار نہ ہو تو اسے فقہاء نے تجارت کی اجازت دی ہے مگر مکروہ کہا فتاوی قاضی خان جلد اول صفحہ 450 میں ہے معتکف کے لئے خرید و فروخت میں کوئی حَرَج نہیں اور اس سے کھانا اور دیگر ضروریات کی چیزوں کی خرید و فروخت، مراد ہے اگر تجارت کا ارادہ ہو تو یہ مکروہ ہے! ( یعنی معتکف کا کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے جس سے وہ اپنے اہل خانہ کا خرچ اٹھائے تو اس کو تجارت کی اجازت ہے مگر مال مسجد میں نہ ہو اور ہو تو بہت کم اور اگر ایسی کوئی مجبوری نہیں ہے بلکہ اس کو دس دن تک کاروبار نہ کرنے سے اہل خانہ کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی تو پھر تجارت مکروہ ہے ) خلاصہ کلام سائل کی تنخواہ جاری ہے اسے کوئی تکلیف نہیں ہے پھر موبائل فون کا استعمال مسجد میں جائز نہیں لہذا موبائل فون سے بچوں کو مسجد میں پڑھانا جائز نہیں بلکہ ویسے تنخواہ دار شخص کو مسجد میں بچے پڑھانے کی اجازت نہیں
واللہ اعلم و رسولہ
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تاریخ 25 اپریل بروز پیر 2022
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں