مسجد کے سائل کو دینا منع ہے
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسلے میں یہ لوگ جو مسجد میں اپنی حاجت کا سوال کر کے مانگتے ہیں اس کے متعلق کیا فرماتے ہیں
توفیق ابن اسماعیل
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
صورت مسئولہ میں اپنے لئے مسجد میں سوال کرنا سخت منع ہے
سرکار اعلی حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں مسجد میں اپنے لیے مانگنا جائز نہیں اور اسے دینے سے علماء نے منع فرمایا ہے ( *فتاوی رضویہ جلد 16 صفحہ 417)
لہٰذا مسجد میں بھیک مانگنے والوں کچھ بھی دینا جائز نہیں اور آج کل اکثر بھکاری جھوٹے ہوتے ہیں غریب بن کر مانگتے ہیں ان کی عادت حرام کھانے کی ہو گئی ایسے لوگوں کو ہرگز نہ دے تاکہ یہ لوگ حرام سے بچ سکے اگر ان کو کوئی دیتا ہے تو وہ بھی گنہگار ہوگا
واللہ اعلم و رسولہ
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تاریخ 22 اپریل بروز جمعہ 2022

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں