دو مرتبہ جمعہ پڑھنا، ؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ 
سوال یہ ہے کہ کیا ایک مسجد میں دوبار جمعہ کی جماعت ہو سکتی ہے
وہاں کے لوگو کی خواہش ہے کہ ہم جمعۃ الوداع کو دو مرتبہ پڑھے ایک بار پیش امام کے ساتھ اور دوسری بار نئے افراد کے ساتھ دوسرے امام کے پیچھے
 مع علل جواب عنایت فرما دے 

سائل: طاہر عطاری  وانکانیر
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ 
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 
بلا عذر شرعی فرض نماز کی تکرار ناجائز ہے جمعہ کی نماز ایک بار ادا کر لینا مسلمانوں پر فرض ہے مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے  شہر میں  متعدد جگہ جمعہ ہو سکتا ہے، خواہ وہ شہر چھوٹا ہو یا بڑا اور جمعہ دو مسجدوں  میں  ہو یا زیادہ۔ (2)     (درمختار وغیرہ) مگر بلا ضرورت بہت سی جگہ جمعہ قائم نہ کیا جائے کہ جمعہ شعائر اسلام سے ہے اور جامع جماعات ہے اور بہت سی مسجدوں  میں  ہونے سے وہ شوکت اسلامی باقی نہیں  رہتی جو اجتماع میں  ہوتی، نیز دفع حرج کے لیے تعدد جائز رکھا گیا ہے تو خواہ مخواہ جماعت پراگندہ کرنا اور محلہ محلہ جمعہ قائم کرنا نہ چاہیے۔ نیز ایک بہت ضروری امر جس کی طرف عوام کو بالکل توجہ نہیں ، یہ ہے کہ جمعہ کو اور نمازوں  کی طرح سمجھ رکھا ہے کہ جس نے چاہا نیا جمعہ قائم کر لیا اور جس نے چاہا پڑھا دیا یہ ناجائز ہے، اس لیے کہ جمعہ قائم کرنا بادشاہِ اسلام یا اس کے نائب کا کام ہے،  اور جہاں  اسلامی سلطنت نہ ہو وہاں  جو سب سے بڑا فقیہ سُنی صحیح العقیدہ ہو، احکام شرعیہ جاری کرنے میں  سُلطان اسلام کے قائم مقام ہے، لہٰذا وہی جمعہ قائم کرے بغیر اس کی اجازت کے نہیں  ہوسکتا اور یہ بھی نہ ہو تو عام لوگ جس کو امام بنائیں ، عالم کے ہوتے ہوئے عوام بطور خود کسی کو امام نہیں  بنا سکتے نہ یہ ہو سکتا ہے کہ دو چار شخص کسی کو امام مقرر کر لیں  ایسا جمعہ کہیں  سے ثابت نہیں ۔(بہار شریعت کتاب جمعہ )  خلاصہ کلام جس نے ایک بار فرض نماز پڑھ لیں وہ دوبارہ اسی نماز کو نہیں پڑھ سکتا بلکہ یہ نماز نفل ہو جائے گی اور نفل کی جماعت مکروہ ہے  واللہ اعلم و رسولہ 
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری 
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 
تاریخ 27 اپریل بروز بدھ 2022

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598