فجر کی اذان تک سحری کھانا کیسا؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام آجکل ایک پوسٹ وائرل ہو رہی آبی داؤد کے حوالے سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی جب فجر کی اذان سنے تو اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو اسے اپنی ضرورت پوری کئے بغیر نہ رکھے  (ابو داؤد ) معلوم ہوا کہ سحری کھاتے وقت اگر فجر کی اذان ہو جائے تو جو برتن ہاتھ میں ہے اس سے کھانا جلدی جلدی کھا لے اس سے روزہ پر کوئی اثر نہیں ہوگا 
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ 
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 
ہمارے یہاں صادق طلوع ہونے کے 15  یا 20 منٹ کے بعد اذان فجر ہوتی ہے اس لئے روزہ فاسد ہو جائے گا پھر زمانے نبوی میں دو اذان ہوتی تھی ایک سحری کے وقت اور دوسری فجر کے وقت صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص سحری کے وقت بلال کی اذان سے دھوکہ نہ کھائے اور نہ اس سفیدی سے جب تک وہ پھیل نہ جائے اس حدیث کی شرح میں حضرت علامہ غلام رسول سیعدی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت بلال رضی اللہ عنہ رات کے وقت اذان دیتے تھے اور یہ اذان طلوع فجر سے پہلے ہوتی تھی  (شرح صحیح مسلم جلد سوم صفحہ 81 )   خلاصہ کلام ہمارے یہاں فجر کی اذان ہوتے ہوئے کھانا پینا نہیں ہے ورنہ روزہ فاسد ہو جائے گا اور سوشل میڈیا کی پوسٹ کا اعتماد نہیں کیا جائے ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے کہ وہ حدیث کو سمجھ سکے واللہ اعلم و رسولہ 
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598