تکبیر تحریمہ میں کان کی لو تک ہاتھوں کو اٹھانا سنت

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب کی بارگاہ میں سوال یہ عرض ہے کہ نماز مین تکبیر تحریمہ میں کان کی لو کو انگوٹھا لگانا کیا ہے؟ سنت /مستحب یا کچھ بھی نہی؟ جواب بمع شاھد عنایت فرما کریں 
سائل:طاہر رضا وانکانیر
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ 
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 
قاضی میں ہے اپنے ہاتھوں کو کانوں کے برابر اٹھائے اور اپنے انگوٹھوں کے کناروں کو کانوں کی لو  (یعنی نرم جگہ ) سے لگائے  (فتاوی قاضی خان جلد اول صفحہ 231 )  حدیث میں ہے حضرت براء بن عازف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرنے کے لیے تکبیر کہتے تو ہاتھوں کو اتنا اٹھاتے کہ آپ کے انگوٹھے کانوں کی لو کے قریب ہو جاتے  (شرح معانی الاثار جلد اول صفحہ 400 ) خلاصہ کانوں کی لو تک ہاتھوں کو اٹھانا سنت ہے واللہ اعلم و رسولہ 
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری 
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 
تاریخ 29 اپریل بروز جمعہ 2022

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598