بغیر ضرورت کے دوسری مسجد تعمیر کرنا کیسا؟

السلام وعلیکم 
سوال: ایک مجسد کے ہوتے ہوئے اس کے پاس دوسری مسجد کی تعمیر کرنا کیسا ہے؟
وجہ تسمیہ یہ ہے کہ واہ کے رہنے والے الگ الگ ذات سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے درمیان کئی بار بحث بھی ہو چکی ہے ,

اگر مسجد بنتی ہے تو اندیشہ یہ ہے کہ پہلی مسجد کو نقصان ہوگا جیسے نمازی سب دوسری مسجد چلے جائیں گے تو پہلی والی مسجد خالی رہے گی,
اور ان کا کہنا بھی یہی ہے کہ مسجد ہم بناے گے تو اس مسجد کے پاس تو نماز پڑھنے والے لوگوں کو تکلیف ہوگی جیسے جمعہ وغیرہ میں 
از  ساوند عبدااسبحان 
سانواں باڑمیر راجستھان
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ 
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں جب پہلی مسجد کافی ہے تو پھر دوسری مسجد بنا کر جماعت میں انتشار پھیلانے کی کوشش کرنا ہے جو کہ ناجائز ہے اور اسلام میں کوئی ذات پات نہیں بس ہر وہ مسلمان جو سنی صحیح العقیدہ ہو آپس میں ایک دوسرے کے بھائی ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے ایک عمارت کی طرح ہے اس کا ایک حصہ دوسرے کو تقویت کا باعث ہوتا ہے  ( صحیح بخاری جلد اول صفحہ 255 حدیث نمبر 462 )  اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں نہ ذات نہ پات صرف عقیدہ کی بنیاد پر بھائی بھائی ہیں تو  بغیر ضرورت کے دوسری مسجد تعمیر کرنا جائز نہیں کہ اس کی وجہ سے پہلی مسجد کو نقصان پہنچائے اللہ تعالٰی فرماتا ہے 
لَا تَقُمْ فِیْهِ اَبَدًاؕ-لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِؕ-فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْاؕ-وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ(108)

 ترجمۂ کنز الایمان

اس مسجد میں تم کبھی کھڑے نہ ہونا بیشک وہ مسجد کہ پہلے ہی دن سے جس کی بنیاد پرہیزگاری پر رکھی گئی ہے وہ اس قابل ہے کہ تم اس میں کھڑے ہو اس میں وہ لوگ ہیں کہ خوب ستھرا ہونا چاہتے ہیں اور ستھرے اللہ کو پیارے ہیں۔(سورت التوبہ ) 
تفسیر صراط الجنان میں ہے ہے امام عبداللہ بن احمد نسفی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں بعض مفسرین کا قول ہے کہ جو مسجد فخر و ریا اور نمود و نمائش یا رضا الٰہی کے سوا اور کسی غرض کے لئے ہو یا حرام مال سے بنائی گئی وہ بھی مسجد ضرار کے ساتھ لاحق ہے  (تفسیر مدرک التوبہ تحت الایہ )  
حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’قیامت کی نشانی یہ بھی ہے کہ لوگ مسجد تعمیر کرنے میں فخر کریں گے ۔ (نسائی، کتاب المساجد، المباہاۃ فی المساجد، ص۱۲۰، الحدیث: ۶۸۶) یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اخلاص کے ساتھ نہیں بلکہ نامْوَری، ریاکاری اور بڑائی کی نیت سے مسجد یں تعمیر کریں گے۔

(2)…حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ لو گ جب مسجد (تعمیر کرنے) کے معاملے میں فخر کرنے لگ جائیں گے۔ (ابن ماجہ، کتاب المساجد والجماعات، باب تشیید المساجد، ۱ / ۴۰۹، الحدیث: ۷۳۹)

(3)…حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں وہ مسجدیں تعمیر کرنے میں ایک دوسرے پر فخر کیا کریں گے اور انہیں آباد کم کیا کریں گے۔( صحیح ابن خزیمہ، جماع ابواب فضائل المساجد وبنائہا وتعظیمہا، باب کراہۃ التباہی فی بناء المساجد۔۔۔ الخ،  ۲ / ۲۸۱، الحدیث: ۱۳۲۱)  خلاصہ کلام صرف نام و نمائش کے لیے مسجد بنانا جائز نہیں نہ ہی کسی مسجد کو نقصان پہنچائے مسلمانوں تم کب سمجھو کہ آج ملک میں جگہ جگہ تمھاری حالات خراب ہے مخالف تمھارا نام و نشان مٹانے پر ایک ہو رہے ہیں اور مسلمان ہے آپس میں ہی اختلاف پیدا کر کے مخالف کو اپنی کمزوری دیکھا رہا ہے خدا کا خوف کرے اس وقت تمام مسلمانوں کو متحد ہو کر رہنا ضروری ہے 
واللہ اعلم و رسولہ 
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری 
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 
تاریخ 21 اپریل بروز جمعرات 2022


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598