قرض میں دئیے گئے روپیہ کی زکوۃ؟
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسلہ کے بارے میں نے دوسرے شخص کو قرض دیا تو کیا اس میں بھی زکوٰۃ نکال نہ ہو گا جواب عنایت فرمائیں
محمد عرفان رضا بہار
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
مال قرض میں پھیلا ہوا ہے اس کی زکاۃ قرض دینے والے پر واجب ہے البتہ اس زکاۃ کی ادائے گی اس وقت واجب ہوگی جب وہ مال مل جائے اور اگر قرض ملنے سے پہلے ہی اس کی زکاۃ ادا کردی تو ادا ہوجائے گی فتاوی رضویہ میں ہے "جو روپیہ قرض میں پھیلا ہوا ہے اس کی بھی زکاۃ لازم ہے مگر جب بقدر نصاب یا خمس نصاب وصول ہوا اس وقت ادا واجب ہوگی جتنے برس گزرے ہوں سب کا حساب لگا کر”(احکام زکوۃ صفحہ 233 ) واللہ اعلم و رسولہ
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تاریخ 3 اپریل 2022

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں