قے ہونے سے روزہ توڑا تو
السلام علیکم کیا فرماتے ہیں مفتیان شرع اس بارے میں زید نے روزہ رکھا اور دن میں الٹی ہوئی بلا ارادہ اب اسکو کسی نے ایسا بتا دیا تیرا روزہ ٹوٹ گیا انکے کہنے پر اُسنے روزہ توڑ دیا جہالت کی وجہ سے کھانا پینا بھی شروع کر دیا اب دریافت یہ کرنا ہے زید نے جو لا علمی کی وجہ سے روزہ توڑا تو اس پر صرف قضاء ہے یا کفارہ بھی ہوگا سائل ولی محمد اکبری آسپو ر
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
صورت مسئولہ میں اس کو کسی نے غلط مسئلہ بتیا اور اس نے اس پر اعتماد کرتے ہوئے روزہ توڑ دیا تو توبہ کرے اور اس روزہ کی قضا لازم
مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر کسی مفتی نے فتوی دے دیا تھا کہ روزہ جاتا رہا اور وہ مفتی ایسا ہو کہ اہل شہر کا اس پر اعتماد ہو اس کے فتوی دینے پر اس نے قصداً کھا لیا تو اب کفارہ نہیں اگرچہ مفتی نے غلط فتوی دیا (بہار شریعت حصہ پنجم صفحہ 991 ) واللہ اعلم و رسولہ
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تاریخ 15 اپریل 2022 بروز اتوار

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں