تراویح میں ختم قرآن سنت کفایہ ہے
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
علماء کرام مفتیان عظام کی بارگاہ میں سوال ہیں
تراویح کی نماز میں ایک ختم قرآن پڑھنا ضروری ہے
جس کو ختم کرتے ہیں
عوام میں نے سنا ہے کہ ایک ختم پڑھنا سننا سنت مؤکدہ ہے اگر سنت موکدہ ہے تو اکثر مسجدوں میں جو علماء سورہ تراویح پڑھاتے ہیں تو اس کیلئے کیا حکم ہے کیا وہ گنہگار ہوئےصحیح کیا ہے ہمارے معزز علماء سے گزارش ہے کہ تفصیلی
جواب عنایت فرمائیں کہاں تک یہ سوال صحیح ہے یا غلط ہے جو لوگ سورۃ تراویح پڑھتے ہیں اس کے لئے کیا حکم ہیں
قرآن و حدیث کی روشنی میں
محمد شفاعت رضا رضا سیوان بہار
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
تراویح میں ختم قرآن سنت کفایہ ہے ایک جماعت نے ختم قرآن سنا تو باقی بری الذمہ ہو گئے جیسا کہ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ختم قرآن تراویح میں سنت کفایہ ہے بعض علماء نے قوم میں سستی و کاہلی پیدا ہو جانے کی وجہ سے ختم قرآن کو ترک کر دینے کی بھی گنجائش یہ کہتے ہوئے رکھی ہے کہ جو شخص اپنے زمانے کے حالات سے آگاہ نہیں وہ جاہل ہے (فتاوی رضویہ جلد 10 صفحہ 335 ) ہمارے زمانہ میں اتنی مقدار افضل ہے جو بوجھ نہ بنے
لہٰذا باقی لوگ ختم قرآن نہیں سنتے تو وہ گنہگار نہیں ہوگے
واللہ اعلم و رسولہ
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن
تاریخ 15 اپریل 2022 بروز جمعہ

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں