عادت سے پہلے حیض بند ہو جائے تو نماز روزہ کا کیا حکم ہوگا؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل میں ہندہ کی عادت تین دن حیض کی ہے مگر اب کی بار مدت سے پہلے حیض بند ہو گیا تو نماز روزہ کا کیا حکم ہوگا جواب عنایت فرمائیں 
سائل محمد اظہر الدین عظیمی بہار کگھڑیا پھولتوڑا 
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ 
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 
صورت مسئولہ میں ہندہ کی عادت تین دن اور تین راتیں تھی مگر اب پہلے بند ہو گیا تو اب اسے حکم ہے کہ وہ (غسل ) وضو کرے اور نماز پڑھے اور روزہ رکھے مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں 
کسی کو پورے تین دن رات خون آکر بند ہو گیا اور اس کی عادت اس سے زِیادہ کی تھی پھر تین دن رات کے بعد سفید رطوبت عادت کے دنوں تک آتی رہی تو اس کے لیے صرف وہی تین دن رات حَیض کے ہیں اور عادت بدل گئی۔(بہار شریعت باب حیض ) 
(درمختار ردالمتار جلد اول صفحہ 660) میں ہے اگر اقل مدت سے کم میں خون ختم ہو جائے تو عورت آخر وقت میں وضو کرے  (اور نماز پڑھے ) تنویر الابصار جلد اول صفحہ 661 میں ہے حیض ختم ہوا اپنی اقل عادت کے بعد پھر وہ عادت سے پہلے ختم ہوا تو اس سے وطی حلال نہیں اور وہ غسل کرے اور روزہ رکھے  ! واللہ اعلم و رسولہ 
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری 
دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن 
تاریخ 15 اپریل 2022 بروز جمعہ


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598